LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان سے ملکر دہشتگرد حملہ آور ہوتے ہیں، خاتمے تک جنگ جاری رہے گی: شہباز شریف نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف

پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے

Web Desk

23 April 2026

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے دسمبر 2023 کے بعد پہلی بار مائع قدرتی گیس (LNG) کے کارگو کے لیے ہنگامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور سپلائی میں تعطل کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی نے بین الاقوامی سپلائرز سے تین ایل این جی کارگو کے لیے بولیاں طلب کی ہیں، جن کی ترسیل 27 اپریل سے 14 مئی کے درمیان کراچی کی بن قاسم بندرگاہ پر متوقع ہے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ اس ٹینڈر کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور مہنگے ڈیزل و فرنس آئل پر انحصار کم کرنا ہے۔ پاکستان کو 28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے کوئی کارگو موصول نہیں ہوا، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ تقریباً بند کر دی ہے، جس پر قطر کی برآمدات کا بڑا انحصار ہے۔ اس صورتحال میں آذربائیجان کی سرکاری کمپنی ’سوکار‘ نے اسلام آباد کی درخواست پر فوری ایل این جی فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

حالیہ بحران نے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ہائیڈرو پاور میں کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں طلب میں کمی کی توقع پر کئی طویل المدتی معاہدے منسوخ کیے تھے، تاہم موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات نے ملک کو دوبارہ سپلائی کے شدید جھٹکوں سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے ایشیائی سپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔