LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ملٹی نیشنل جاپانی کمپنی کا ’’میڈان پاکستان‘‘ آٹوپارٹس بنانے کا اعلان اسلام آباد، راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے افغانستان کی جنوبی وزیرستان میں اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی میں پوسٹیں تباہ پاکستان کا دورہ نہایت مفید، آج پیوٹن سے ملاقات، پیشرفت کا جائزہ لیں گے: عراقچی سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا ایرانی وزیر خارجہ، روسی صدر سے ملاقات کیلئے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجویز امریکا کو موصول واشنگٹن فائرنگ کا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا، اٹارنی جنرل بلانش پاکستان کا ایران کو تجارتی سہولت دینے کا بڑا فیصلہ، ٹرانزٹ تجارت کی اجازت دہلی ائیرپورٹ پر سوئس ائیر کے طیارے کے انجن میں آگ، 6 مسافر زخمی پی ایس ایل 11: لاہور قلندرز باہر، حیدرآباد کنگز مین پلے آف میں پہنچ گئی عباس عراقچی کی دوبارہ اسلام آباد آمد، فیلڈ مارشل سے اہم مشاورت لندن:اسماعیلی کمیونٹی کے پیشوا پرنس رحیم آغا خان کی میراتھون میں شرکت بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ دوبارہ فعال، یونیورسٹی روڈ پر کام کا آغاز

پاکستان کا ایران کو تجارتی سہولت دینے کا بڑا فیصلہ، ٹرانزٹ تجارت کی اجازت

Web Desk

26 April 2026

پاکستان نے ایران کو تجارت میں اہم سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے راستے کسی تیسرے ملک کے لیے سامان کی ترسیل کی اجازت دے دی ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ نقل و حمل سے متعلق حکم نامہ دو ہزار چھبیس جاری کردیا گیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے درآمد و برآمد کنٹرول ایکٹ انیس سو پچاس میں ضروری ترامیم کرتے ہوئے ایران کے لیے ٹرانزٹ تجارت کی راہ ہموار کردی ہے۔

حکم نامے کے تحت کسی تیسرے ملک سے روانہ ہونے والا سامان پاکستان کے راستے ایران کے مختلف مقامات تک پہنچایا جاسکے گا۔

سامان کی ترسیل کے لیے متعدد راستے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں گوادر، پورٹ قاسم، لیاری، اورماڑہ، پسنی، گبد، خضدار، دالبندین، تفتان، تربت، پنجگور، ناگ، بیسیمہ، کوئٹہ، لک پاس اور نوکنڈی شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سامان کی نقل و حمل کسٹمز قوانین اور متعلقہ طریقہ کار کے تحت ہوگی۔