بیرونی قرضوں پر انحصار برقرار، یو اے ای کے 2 ارب ڈالر پر اسٹیٹ بینک کی خاموشی
Web Desk
24 February 2026
پاکستان کو رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران دس ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض اور پرانے قرضوں کی توسیع کی مد میں موصول ہوئے، تاہم متحدہ عرب امارات کے دو ارب ڈالر کے رول اوور سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے معاشی حلقوں میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وزارتِ اقتصادی امور کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری تک حکومت نے تقریباً پانچ اعشاریہ ایک ارب ڈالر کے نئے قرض حاصل کیے، جبکہ سعودی عرب ، چین اور آئی ایم ایف کی جانب سے تقریباً پانچ ارب ڈالر کے موجودہ قرضوں کی ادائیگی مؤخر یا مدت میں توسیع کی گئی۔
یوں مجموعی طور پر بیرونی قرضوں اور رول اوور کی رقم دس اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کم ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق کم وصولیوں کی بڑی وجہ یو اے ای کے دو ارب ڈالر کے قرض کی غیر واضح صورتحال ہے۔ مذکورہ قرض کی مدت پہلے جنوری میں اور پھر رواں ماہ مکمل ہوئی، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے معمول کے برعکس اس کی توسیع سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جس سے شکوک و شبہات کو تقویت ملی ہے۔
دسمبر میں اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے، جبکہ چین نے بھی ایک ارب ڈالر کے کیش ڈپازٹ کو مزید ایک سال کے لیے بڑھایا۔ اسی عرصے میں عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط بھی جاری کی گئی۔
حکومت اور مرکزی بینک نے رواں مالی سال کے لیے پچیس ارب ڈالر سے زائد بیرونی آمدن کا تخمینہ لگایا تھا، جس میں نئے قرض اور پرانے قرضوں کا رول اوور شامل ہے۔ تاہم جولائی تا جنوری موصول ہونے والی رقم سالانہ ہدف کا تقریباً چالیس فیصد بنتی ہے، جو مالی اہداف کے حصول پر سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان کو اسی مالی سال کے دوران بارہ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے کیش ڈپازٹس واپس کرنا ہیں۔ وزارتِ خزانہ کو توقع ہے کہ بین الاقوامی قرض دہندگان ان رقوم کو رول اوور کر دیں گے، لیکن زرمبادلہ کے تقریباً سولہ ارب ڈالر کے ذخائر پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔
مزید برآں سعودی عرب نے چھ فیصد شرح سود پر سات سو پانچ ملین ڈالر کی تیل سہولت بھی فراہم کی، جبکہ کثیر الجہتی اداروں سے دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر حاصل ہوئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے پانچ سو دو ملین ڈالر فراہم کیے۔
ادھر حکومت کو مسلسل بیرونی قرضوں پر انحصار، برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور مالی خود کفالت کی حکمت عملی کے فقدان پر تنقید کا سامنا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرضوں کی توسیع وقتی سہارا تو فراہم کر سکتی ہے، مگر پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، محصولات میں بہتری اور ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
متعلقہ عنوانات
سعودی عرب کا سیاحتی ویزا سے متعلق اہم فیصلہ ب
5 October 2026
مجھے نفسیاتی طور پر اسپرین کی ضرورت ہے، ٹرمپ
5 October 2026
تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ
5 October 2026
خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، وزیراعظم کا صدر زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ
5 October 2026
ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں : صدر ٹرمپ کا اعلان
5 October 2026
بھاگنے کی عادت پرانی، ہر مشکل میں کارکنوں کو آگے کرکے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں: فیصل کریم
5 October 2026
ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے
5 October 2026
مالی سال 2026-27 کے پہلے تین ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی رپورٹ جاری
5 October 2026