LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آن لائن گیم میں بھاری رقم ہارنے پر پیٹرولنگ پولیس اہلکار نے خودکشی کرلی ایٹمک ڈکٹیشن 2026 کا دائرہ وسیع، روس سمیت متعدد ممالک میں آج سے آغاز حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی تشکیل ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل تک ختم نہیں ہو گا: نومنتخب وزیراعظم دورہ برطانیہ کامیاب رہا، پاکستان سفارتی طور پر پہلے سے کہیں بہتر مقام پر ہے: اسحاق ڈار پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

بیرونی قرضوں پر انحصار برقرار، یو اے ای کے 2 ارب ڈالر پر اسٹیٹ بینک کی خاموشی

Web Desk

24 February 2026

پاکستان کو رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران دس ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض اور پرانے قرضوں کی توسیع کی مد میں موصول ہوئے، تاہم متحدہ عرب امارات کے دو ارب ڈالر کے رول اوور سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے معاشی حلقوں میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وزارتِ اقتصادی امور کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری تک حکومت نے تقریباً پانچ اعشاریہ ایک ارب ڈالر کے نئے قرض حاصل کیے، جبکہ سعودی عرب ، چین اور آئی ایم ایف کی جانب سے تقریباً پانچ ارب ڈالر کے موجودہ قرضوں کی ادائیگی مؤخر یا مدت میں توسیع کی گئی۔

یوں مجموعی طور پر بیرونی قرضوں اور رول اوور کی رقم دس اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کم ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق کم وصولیوں کی بڑی وجہ یو اے ای کے دو ارب ڈالر کے قرض کی غیر واضح صورتحال ہے۔ مذکورہ قرض کی مدت پہلے جنوری میں اور پھر رواں ماہ مکمل ہوئی، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے معمول کے برعکس اس کی توسیع سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جس سے شکوک و شبہات کو تقویت ملی ہے۔

دسمبر میں اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے، جبکہ چین نے بھی ایک ارب ڈالر کے کیش ڈپازٹ کو مزید ایک سال کے لیے بڑھایا۔ اسی عرصے میں عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط بھی جاری کی گئی۔

حکومت اور مرکزی بینک نے رواں مالی سال کے لیے پچیس ارب ڈالر سے زائد بیرونی آمدن کا تخمینہ لگایا تھا، جس میں نئے قرض اور پرانے قرضوں کا رول اوور شامل ہے۔ تاہم جولائی تا جنوری موصول ہونے والی رقم سالانہ ہدف کا تقریباً چالیس فیصد بنتی ہے، جو مالی اہداف کے حصول پر سوالیہ نشان ہے۔

پاکستان کو اسی مالی سال کے دوران بارہ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے کیش ڈپازٹس واپس کرنا ہیں۔ وزارتِ خزانہ کو توقع ہے کہ بین الاقوامی قرض دہندگان ان رقوم کو رول اوور کر دیں گے، لیکن زرمبادلہ کے تقریباً سولہ ارب ڈالر کے ذخائر پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

مزید برآں سعودی عرب نے چھ فیصد شرح سود پر سات سو پانچ ملین ڈالر کی تیل سہولت بھی فراہم کی، جبکہ کثیر الجہتی اداروں سے دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر حاصل ہوئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے پانچ سو دو ملین ڈالر فراہم کیے۔

ادھر حکومت کو مسلسل بیرونی قرضوں پر انحصار، برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور مالی خود کفالت کی حکمت عملی کے فقدان پر تنقید کا سامنا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرضوں کی توسیع وقتی سہارا تو فراہم کر سکتی ہے، مگر پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، محصولات میں بہتری اور ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔