LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا اہم فیصلہ: بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں 24 ستمبر 2026 تک توسیع روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، 6 فلسطینی شہید، 14 زخمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت کیلئے دعا گو ہوں، طبی سہولیات ملنا سب کا حق ہے: شرجیل میمن وزیر داخلہ کی شہید میجر احسان کی رہائشگاہ آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ

پاک چین فارما کانفرنس، ایک ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری و تجارتی معاہدے

Web Desk

18 July 2026

وفاقی وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان چین بی ٹو بی فارماسیوٹیکل انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے قریب تاریخی سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے طے پائے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ اس کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شعبۂ صحت میں اتنا بڑا تجارتی اور تزویراتی اتحاد قائم ہوا ہے، جبکہ یہ پاک چین فارما کانفرنس دراصل سی پیک (CPEC) فیز ٹو کے عملی خدوخال کی بہترین اور واضح مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین باہمی تعاون اب صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں رہا بلکہ کامیابی سے آگے بڑھ کر صحت کے شعبے تک پھیل چکا ہے۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کانفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ایونٹ میں 850 ملین ڈالر کی تجارتی شراکت داریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے، جن میں 600 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے 16 تجارتی معاہدے اور 250 ملین ڈالر مالیت کی 18 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان معاہدوں میں سیل لائن ڈویلپمنٹ، بایوٹیکنالوجی انجیکشنز، مصنوعی اے پی آئی مینوفیکچرنگ، میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی تیاری اور کلینیکل ٹرائلز کے اہم منصوبے شامل ہیں۔ وزیر مملکت نے زور دیا کہ یہ معاہدے صرف کاغذی اعلانات نہیں بلکہ عملی سرمایہ کاری کا آغاز ہیں، اور چین سے 150 سے زائد صنعتی ماہرین کی پاکستان آمد دونوں ممالک کے مضبوط تعاون پر اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری منظوری، لائسنس کے اجراء، اراضی کی فراہمی اور رجسٹریشن کے امور میں تیز ترین اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک چین فارما تعاون کے تمام منصوبوں کی اعلیٰ سطح پر نگرانی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کرے گی، لہٰذا پاکستانی صنعتکار اور کاروباری برادری اس کامیاب کانفرنس کے بعد بلا تاخیر ان منصوبوں پر عملی عملدرآمد کا آغاز کریں۔