LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

سرحد پر کشیدگی میں شدت، پاکستان کا آپریشن ،  افغان طالبان کے جوابی کارروائی کے دعوے

Web Desk

26 February 2026

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کی گئی بلااشتعال فائرنگ کا فوری اور مؤثر جواب دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان کے تقریباً 44 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

سرکاری بیان کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں جوابی کارروائی کی گئی اور متعدد چوکیاں اور سازوسامان تباہ کیے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں پاکستان فوج کے دو اہلکار جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا اور بعض پر قبضہ بھی کیا۔ تاہم پاکستانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی چوکی پر قبضہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی فوجی گرفتار یا شہید ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے سرحد پار کارروائی میں مخالف فریق کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

ادھر باجوڑ میں مقامی پولیس اہلکار کے مطابق سرحدی کشیدگی کے دوران ایک خاتون جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوئے جنہیں خار اسپتال منتقل کیا گیا۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طورخم بارڈر پر افغانستان واپس جانے والے افغان خاندانوں کی تمام گاڑیاں زیرو پوائنٹ سے واپس کر دی گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اپر کرم کے گوی، بوڑکی اور حرلاچی بارڈر جبکہ لوئر کرم کے شورکی اور شہدانوں بارڈر پر بھی کراس فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

دونوں جانب سے بھاری نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں تاہم ان کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔