LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ برطانیہ سمیت بارہ ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ برطانیہ میں فلائٹ آپریشن متاثر، صدر مملکت کی پرواز تاخیر کا شکار نرسنگ کالج پشاور میں طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد، ڈی ایس پی، ایس ایچ او معطل ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ایم کیو ون ڈرون مار گرانے کا دعویٰ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری امریکا کا مغربی کنارے میں برطانوی تجارتی پابندیوں کی پیروی سے انکار اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان ملک میں چینی کے وافر ذخائر، کرشنگ سیزن تک ضرورت پوری ہوگی: اسحاق ڈار ملک میں نئے صوبے نہیں، انتظامی یونٹس بنانے کی بات ہو رہی ہے: خواجہ آصف

پاکستان کا آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز اجلاس میں جوہری تحفظ و سلامتی کے عزم کا اعادہ

Web Desk

9 September 2026

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کرتے ہوئے ملک کے پُرامن جوہری پروگرام اور عالمی تحفظ و سلامتی کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اپنے خطاب میں چیئرمین پی اے ای سی نے واضح کیا کہ جوہری اور تابکاری تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر ہر ریاست کو اپنے ایٹمی اثاثوں اور تنصیبات کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوتی ہے، اور یہی اصول پاکستان کے پُرامن جوہری پروگرام کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے آئی اے ای اے کے ارکان کو بتایا کہ پاکستان گزشتہ پانچ دہائیوں (50 سال) سے اپنی تمام ایٹمی تنصیبات کو عالمی قوانین کے تحت مکمل محفوظ اور کامیاب انداز میں چلا رہا ہے۔ پاکستان نے ‘کنونشن آن نیوکلیئر سیفٹی’ کے دسویں جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جبکہ جاری سال 2026ء میں بھی پاکستانی ایٹمی ماہرین نے چین اور فلپائن میں ہونے والی آئی اے ای اے کی عالمی مشقوں میں فعال شرکت کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کا ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی’ اور ‘پاکستان سینٹر آف ایکسی لینس فار نیوکلیئر سکیورٹی’ علاقائی مراکز کے طور پر خطے کے دیگر ممالک کو معاونت فراہم کر رہے ہیں اور پاکستان کا جوہری تحفظ کا اندرونی فریم ورک عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات کے عین مطابق ہے۔