LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو جھوٹ بولنے کے اولمپک چیمپئن قرار دے دیا برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری

نیویارک شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں، 2011 کے بعد پہلی بار ریکارڈ توڑ ہیٹ ویو کا الرٹ؛ میئر نے ‘ہیٹ ایمرجنسی’ نافذ کر دی

Web Desk

2 July 2026

نیویارک شہر رواں ہفتے ریکارڈ توڑ گرمی کی لپیٹ میں آنے کے لیے تیار ہے، جس کے باعث شہریوں خصوصاً کھلے آسمان تلے کام کرنے والے ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کو شہر کا درجہ حرارت 100 ڈگری فارن ہائیٹ (تقریباً 38 ڈگری سیلسیس) سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ ہوا میں نمی کے تناسب کی وجہ سے گرمی کی شدت (ہیٹ انڈیکس) 112 ڈگری تک محسوس کی جا سکتی ہے۔

نیویارک شہر میں سال 2011 کے بعد پہلی بار مسلسل دو دن تک درجہ حرارت 100 ڈگری سے اوپر جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے میئر زوہران ممدانی نے ہنگامی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ایک تاریخی “ہیٹ ایمرجنسی پلان” نافذ کر دیا ہے۔

محکمہ صحت کی اسسٹنٹ کمشنر کیرولین اولسن کا کہنا ہے کہ “یہ ٹیکساس جیسی شدید گرمی ہے جو عام طور پر نیویارک میں نہیں دیکھی جاتی، اس لیے صورتحال انتہائی سنگین ہے۔” میئر زوہران ممدانی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بدھ سے گھروں کے اندر رہیں، ایئر کنڈیشننگ کا استعمال کریں اور اپنے پڑوسیوں کی خیر عافیت معلوم کرتے رہیں۔

لائبریریوں، سینیئر سینٹرز اور دیگر ایئر کنڈیشنڈ مقامات کو کولنگ سینٹرز میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ شہری شدید گرمی سے پناہ لے سکیں. میئر نے ایک خصوصی ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد اسٹریٹ وینڈرز، ڈیلیوری بوائز اور دیہاڑی دار مزدوروں سمیت تقریباً 93,000 آؤٹ ڈور ورکرز کو گرمی کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔ ان کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں مسٹنگ فینز (پانی کی پھوار والے پنکھے) لگائے جا رہے ہیں.  پبلک سوئمنگ پولز کے اوقات کار میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر کے انہیں رات 8 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ بچوں کے لیے قریبی فائر اسٹیشنز سے اسپرے کیپ حاصل کر کے فائر ہائیڈرنٹس کو اسپرنکلر میں تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ‘کون ایڈیسن’ نے بھی کسی بھی ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے اپنے ایمرجنسی ریسپانس سینٹر کو فعال کر دیا ہے، کیونکہ شدید گرمی کے باعث پاور گرڈ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔