LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا نا قابلِ قبول، گرفتار و مغوی رہنماؤں کی فوری بازیابی کی جائے: پی ٹی آئی 5 سال میں ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش خیبرپختونخوا: اپیکس کمیٹی کا اجلاس، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پی ایم یوتھ پروگرام اور امریکی ادارے PRG میں تاریخی معاہدہ سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا بیرسٹر گوہر کی میڈیا سے گفتگو: سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ اور جنید اکبر کے پی کے صدر رہیں گے، تبدیلیوں کی تردید کرک میں سی ٹی ڈی اور پولیس پر دہشت گردوں کا حملہ: ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید، 2 دہشت گرد ہلاک پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس: علی امین گنڈاپور مذاکراتی نمائندہ نامزد، گورنر راج مسترد روس پر یوکرین کے بڑے ڈرون حملے، ماسکو کی جانب 630 ڈرونز کی پرواز، تین افراد زخمی ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد اور زرمبادلہ ذخائر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: عالمی بینک رپورٹ ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی چیلنج: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق اور نیب کو نوٹس 12 سال کی بچی کو بلیک میل کرنے پر 2 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم

ملکہ ترنم کا گیت 53 سال بعد بھارتی جین زی کے دلوں کی دھڑکن بن گیا

Web Desk

17 January 2026

پاکستان کی لیجنڈری گلوکارہ نور جہاں کا 53 برس قبل گایا ہوا پنجابی نغمہ “سانوں نہر والے پل تے بلا کے” بھارتی نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے۔ یہ گانا پہلی بار 14 ستمبر 1973 کو پاکستانی فلم “دکھ سجناں دے” میں شامل کیا گیا تھا۔

انڈین ٹی وی این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، آج کل نوجوان اس گانے کو انسٹاگرام اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیادہ سنتے ہیں۔ صرف 43 سیکنڈ کے ایک کلپ پر ایک لاکھ سے زیادہ ریلز بن چکی ہیں۔

گانے کے بول “سانوں نہر والے پل تے بلا کے، تے خورے ماہی کتھے رہ گیا” آج کے ڈیٹنگ کلچر، لو بومبنگ اور گھوسٹنگ جیسے مسائل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نوجوان اس گانے میں موجود انتظار، بے بسی اور خاموش جذبے کو اپنی جدید زندگی کے تجربات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔