LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

اب روبوٹ بھی انسانوں کی طرح ’’درد‘‘ محسوس کر سکیں‌ گے!

Web Desk

6 January 2026

اب تک روبوٹس مختلف شعبوں میں انسانوں کی جگہ تو لے رہے تھے، مگر وہ انسانی حِسّیات خصوصاً درد کے احساس سے محروم تھے۔ تاہم اب چین میں تیار کی گئی ایک نئی مصنوعی جلد روبوٹس کو انسانوں کی طرح لمس اور درد محسوس کرنے کے قابل بنا دے گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے انجینئر یو یوگاؤ کی قیادت میں سائنسدانوں نے ایسی نیورومورفک مصنوعی جلد تیار کی ہے جو انسانی اعصابی نظام کی نقل کرتی ہے۔ یہ جلد چار فعال تہوں پر مشتمل ہے جو لمس کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسانی اعصاب دماغ کو پیغام بھیجتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ہلکے دباؤ کی صورت میں روبوٹ اسے عام لمس سمجھے گا، جبکہ دباؤ ایک خاص حد سے بڑھنے پر وہ اسے درد کے طور پر محسوس کرے گا اور انسانوں جیسا ردِعمل دے گا۔ مثال کے طور پر اگر روبوٹ کسی نوکیلی یا گرم چیز کو چھوئے تو وہ فوراً اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لے گا۔

اس ٹیکنالوجی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ریفلیکس سسٹم ہے، جس کے تحت شدید درد یا چوٹ کی صورت میں سگنل براہِ راست روبوٹ کے موٹرز کو بھیجا جاتا ہے، اور دماغی ہدایات کے بغیر ہی فوری حرکت ممکن ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ایجاد مستقبل میں ہیلتھ کیئر، روبوٹک سرجری، صنعتی کاموں اور انسانی تعامل کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، جہاں محفوظ اور حساس روبوٹس کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔