آسٹریلیا: انجینئرز نے نظروں سے اوجھل ہونے والا ڈرون تیار کر لیا
Web Desk
6 August 2026
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی (Northwestern University) کے انجینئرز نے انسانی بصارت کی حد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسا جدید ڈرون تیار کیا ہے جو پرواز کے دوران انسانی آنکھ کو تقریباً غائب دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں غیر مرئی (Invisible) ڈرون بنانے کے لیے کیموفلاج، شفاف مواد اور روشنی کو موڑنے والی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جاتا رہا، تاہم اس نئی تحقیق میں موشن بلر (Motion Blur) کا بصری اثر استعمال کیا گیا ہے۔
’فینٹم ٹوئسٹ‘ (Phantom Twist) نامی یہ ڈرون 01 سیکنڈ میں 25 مرتبہ تک گھومتا ہے، جو انسانی آنکھ کی پروسیسنگ رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے، جس کے باعث یہ ایک باریک دھندلے سایے کی شکل اختیار کر کے پس منظر میں گھل مل جاتا ہے۔
یہ تحقیق 16 جولائی 2026 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں منعقدہ Robotics: Science and Systems 2026 کانفرنس کے ‘روبوٹ اینڈ سینسر ڈیزائن’ سیشن میں پیش کی گئی۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026