LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا تھیم پارک اسلام آباد میں بنے گا ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستانی ڈیری سیکٹر میں اہم پیشرفت کراچی: بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی کے ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات ملک میں جیٹ فیول، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کا تیل بھی مہنگا کردیا گیا پاکستان ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا، حفاظت کر رہا ہے: فاروق عبداللہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی پر اسرائیلی حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی سعودی عرب میں دو بیلسٹک میزائل حملے ناکام، ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی کور کمیٹی کو غیر مؤثر بنانے کی خبریں بے بنیاد ہیں، حتمی اختیار بانی عمران خان کے پاس ہے: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا وفاق کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنا ہوگا: گورنر ایران کا بندر عباس کے قریب ایک اور امریکی ساختہ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ مولانا کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے: رانا سکندر حیات ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا ناقابل تصور جواب دیں گے: باقر قالیباف جنگ بندی کیلئے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری ہے، عباس عراقچی

فلمی ادارے میں احتجاج پر نصیرالدین شاہ کی حمایت، بی جے پی کا تحقیقات کا مطالبہ

Web Desk

26 October 2026

بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ کی جانب سے کولکتہ کے تاریخی ‘ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ’ (SRFTI) کے احتجاجی طلبہ کی حمایت کے بعد ایک نیا اور شدید سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

نصیرالدین شاہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اپوزیشن کے نظریات رکھنے والوں سے سیاسی انتقام لے رہی ہے اور مستقبل کے فلم سازوں کو خوفزدہ کر کے اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتی ہے۔ اس بیان پر بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ اور ترجمان راہول سنہا نے اداکار کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے بیانات کو ایک “بین الاقوامی سازش” کا حصہ قرار دیا۔ ادھر بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم ساز پائل کپاڈیا نے بھی طلبہ پر کی جانے والی تادیبی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی حمایت کی ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے زیرِ اہتمام چلنے والے اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق، کیمپس میں کشیدگی کا آغاز 27 ستمبر کو ہوا جو بعد میں توڑ پھوڑ، وائس چانسلر کے دفتر کے گھیراؤ اور پتھراؤ تک جا پہنچی۔ انتظامیہ نے کیمپس میں سی سی ٹی سی کیمروں کی تنصیب اور سیکیورٹی اقدامات پر احتجاج کرنے والے 6 طلبہ کو ایک سال کے لیے خارج کر دیا ہے جبکہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے تمام کلاسز 13 نومبر تک معطل کر دی گئی ہیں۔