LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

ملک میں ایچ آئی وی ایڈز کے کتنے مریض موجود،وفاقی وزیر صحت نے آگاہ کر دیا

Web Desk

31 March 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں ملک میں ایچ آئی وی (HIV) ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام (NACP) کے تحت پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 84 ہزار 421 مریض رجسٹرڈ ہیں۔

ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب اور سندھ میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید بتایا کہ حکومت اس موذی مرض کی روک تھام اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 98 علاج مراکز قائم ہیں جہاں مریضوں کو مکمل طور پر مفت اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) فراہم کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذریعے نہ صرف رجسٹریشن اور علاج کو یقینی بنایا جا رہا ہے بلکہ اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے تاکہ معاشرے میں اس مرض سے جڑے منفی تاثر کو ختم کیا جا سکے اور بروقت تشخیص کو ممکن بنایا جا سکے۔