LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

12 سے 18 ماہ میں اے آئی وائٹ کالر ملازمین کی جگہ لے سکتی ہے، مائیکروسافٹ

Web Desk

14 February 2026

ایک حالیہ انٹرویو میں مصطفیٰ سلیمان نے مصنوعی ذہانت تیزی سے پیشہ ورانہ شعبوں میں انسانی کردار کو تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران اے آئی خاص طور پر وائٹ کالر ملازمین کے بیشتر پیشہ ورانہ کام مکمل طور پر خودکار بنا سکتی ہے۔ وائٹ کالر ملازمین میں عام طور پر دفتری عملہ، اکاؤنٹنٹس، کسٹمر سروس نمائندگان، قانونی اسسٹنٹس، تجزیہ کار اور آئی ٹی سپورٹ سٹاف شامل ہوتے ہیں۔

مصطفیٰ سلیمان نے کہا کہ اے آئی تیزی سے ایسی صلاحیتیں حاصل کر رہا ہے جو رپورٹ لکھنے، ڈیٹا تجزیہ کرنے، ای میل ڈرافٹ کرنے، کوڈ لکھنے اور تحقیق جیسے کام انجام دے سکتی ہیں۔ کمپنیاں اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بڑھانے کے لیے اے آئی ٹولز کو تیزی سے اپنائیں گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بعض شعبوں میں ملازمتوں کی نوعیت بدل جائے گی جبکہ بعض کردار مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں، تاہم ممکن ہے کہ مکمل ملازمتیں ختم نہ ہوں بلکہ ان کی ذمہ داریاں اور کام کرنے کے طریقہ کار تبدیل ہو جائیں۔