LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکی سینیٹر کرس مرفی کا ایران کیساتھ سفارتی ڈیل پر توجہ دینے پر زور پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں

ری-بین میٹا اسمارٹ گلاسز سے ریکارڈ ویڈیوز پرائیویسی بحث کا مرکز بن گئیں

Web Desk

5 March 2026

حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا کے تیار کردہ اسمارٹ چشمے ری-بین میٹا اسمارٹ گلاسز سے ریکارڈ کی جانے والی ویڈیوز بعض اوقات کمپنی کے سسٹمز کے ذریعے انسانی عملے تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جب صارفین ان چشموں کی مدد سے ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں یا ان میں موجود مصنوعی ذہانت (AI) کے فیچرز استعمال کرتے ہیں تو بعض اوقات یہ مواد کمپنی کے ڈیٹا سسٹمز تک منتقل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ مواد مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنانے یا کارکردگی کے جائزے کے لیے مخصوص ٹیموں یا بیرونی کنٹریکٹرز کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

تحقیق سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکارڈ شدہ ویڈیوز میں روزمرہ زندگی کے مناظر، گھریلو سرگرمیاں اور بعض اوقات ذاتی نوعیت کے لمحات شامل ہوتے ہیں، اور کئی مواقع پر آس پاس موجود افراد کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ انہیں اسمارٹ چشموں کے ذریعے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب یہ ڈیٹا AI کے تربیتی نظام کا حصہ بن جاتا ہے تو بعد میں اس کے استعمال پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

دوسری جانب میٹا کا مؤقف ہے کہ صارفین کی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے چہروں کو دھندلا کرنے اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم تحقیق میں شامل بعض کارکنوں کے مطابق یہ اقدامات ہر صورت حال میں مکمل مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

یہ اسمارٹ چشمے عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، اور ان میں نصب کیمرہ اور AI پر مبنی معاون نظام صارفین کو اپنی نظر کے زاویے سے تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس نے جدید ٹیکنالوجی اور پرائیویسی کے درمیان توازن پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔