LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

میٹا کا سیمی کنڈکٹر کمپنی سے 100 ارب ڈالر کا معاہدہ

Web Desk

25 February 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ تیز تر ہوگئی ہے، جہاں فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ‘میٹا’ نے ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (AMD) کے ساتھ 100 ارب ڈالر مالیت کے ایک بہت بڑے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت میٹا نہ صرف اے ایم ڈی سے جدید ترین اے آئی چپس خریدے گی بلکہ اس سیمی کنڈکٹر کمپنی میں 10 فیصد حصص (شیئرز) کی مالک بھی بن جائے گی۔

معاہدے کے مطابق، میٹا اپنے ڈیٹا سینٹرز کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اے آئی پراسیسنگ کی رفتار بڑھانے کے لیے اے ایم ڈی کی طاقتور ‘ایم آئی 450’ (MI450) چپس استعمال کرے گی۔ یہ پیش رفت گزشتہ برس اوپن اے آئی اور اے ایم ڈی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کڑی معلوم ہوتی ہے، جس نے مارکیٹ میں اینویڈیا (Nvidia) کی اجارہ داری کو چیلنج کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 100 ارب ڈالر کی یہ بھاری سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں مستقبل کی ٹیکنالوجی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہیں۔