LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا اعزاز؛ رانا مشہود نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹ بال ‘ٹریونڈا’ دنیا کے سامنے پیش کر دی امریکی حملوں کے اعلان کے بعد ایران کے 5 شہروں میں دھماکوں کی آوازیں پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 26-2025 میں ریکارڈ 1 ارب 76 کروڑ ڈالر زرمبادلہ کمالیا ایرانی پاسداران انقلاب کا شام میں کمانڈ سینٹر پر حملہ ایران مرکزی منامہ میں کچھ مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے: امریکی سفارتخانے نے شہریوں کو ہدایات جاری کر دیں ایران کے شہر چابہار میں دھماکوں کی آوازیں: ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایران کیخلاف مسلسل نویں رات حملوں کی نئی لہر شروع کر دی سپین بیک وقت مینز اور ویمنز فٹبال ورلڈ چیمپئن بننے والا پہلا ملک بن گیا ایرانی ڈرون حملے میں ایک اور امریکی فوجی ہلاک، سینٹ کام کی تصدیق روسی فوج کا دنیپروپیٹروفسک ریجن کے گاؤں وولنوئے پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیف پر حملے، زیلنسکی کی اتحادیوں سے مزید فضائی دفاعی میزائلوں کی فراہمی کی اپیل ایران کا امریکی MQ-9 ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ مہاجرین ووٹ دے کر ثابت کریں وہ جموں و کشمیر کا لازم حصہ ہیں: احسن اقبال دنیا بھر میں میٹا سروس عارضی طور پر متاثر ہونے کے بعد بحال مال بردار ٹرین حادثہ: کراچی سے لاہور سمیت مختلف روٹس کی ٹرینیں منسوخ

فضل الرحمٰن جھکنے یا سرینڈر کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا، معافی پروپیگنڈا کرنے والے مانگیں؛ مولانا فضل الرحمٰن

Web Desk

19 July 2026

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک سخت اور تاریخی خطاب میں مقتدر حلقوں اور مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فضل الرحمٰن جھکنے یا سرینڈر کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے خلاف چلائی جانے والی حالیہ مہم پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤقف کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور معافی کا مطالبہ مجھ سے نہیں بلکہ اس فوجی افسر، جنرل یا دفتر سے ہونا چاہیے جس نے میری جماعت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کروایا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے انتہائی جذباتی انداز میں اپنے رفقا اور علمائے کرام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے استاد مولانا حسن جان، مولانا نور محمد اور مولانا میاں اجن الدین سمیت ہزاروں کارکنان دہشت گردی کا نشانہ بنے، انہوں نے باجوڑ کے ایک ہی جلسے کے بعد 100 جنازے اٹھائے ہیں اور وہ روزانہ پختونخوا اور بلوچستان میں اپنے شہداء کے جنازے پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے گلہ کیا کہ “میں تو فوج اور قوم کے ہر جنازے پر ساتھ رویا ہوں، لیکن کیا کبھی تم میرے شہداء کے جنازوں پر ہمارے ساتھ روئے ہو؟”

سربراہ جے یو آئی نے ماضی کے سیاسی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ 1988، 1993 اور 1997 میں جب بھی اسمبلی میں آئے، اپوزیشن کا حصہ رہے اور انہوں نے ہمیشہ کسی حکومت کی خواہش کے بجائے اپنے اصولوں کی سیاست کی۔ انہوں نے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے اس وقت بھی صاف کہا تھا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، اگر مجھ پر ڈیزل پرمٹ، کارخانوں یا دبئی میں ہوٹلوں کے الزامات سچے ہیں تو کوئی ثبوت سامنے لایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اختلاف اداروں سے نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں سے ہے، کیونکہ سپاہی تو حکم کا پابند ہوتا ہے لیکن اصل ذمہ داری پالیسی سازوں کی ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دباؤ میں آکر اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے اور آئین، اعتدال اور قانون کی بالادستی کے لیے ان کی جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔