LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال

ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

Web Desk

20 July 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی لائے تو سفارت کاری اب بھی ممکن ہے، کیونکہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے بجائے 3 بحری جہازوں پر حملے کیے، اور وہ اب بھی میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس کے جواب میں امریکا کارروائیاں کر رہا ہے۔ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ شدید معاشی بحران کے باعث تہران میں پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں، جہاں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا سخت مؤقف پر قائم ہے، اور اگر مذاکرات کے حامی کامیاب ہوتے ہیں تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس کا بوجھ صرف واشنگٹن پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دیگر ممالک کو بھی بحری وسائل، عسکری سازوسامان یا مالی معاونت کی صورت میں اس مشترکہ ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔