LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ثالثوں کی امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کیلئے کوششیں دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر نچلے درجے کا سیلاب، ضلعی انتظامیہ الرٹ ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانا پڑے گی: ٹرمپ آبنائے ہرمز میں دو یونانی بحری جہازوں پر میزائل حملے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مفاہمتوں پر عمل درآمد شروع، سکیورٹی زونز قائم حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان ایرانی حملوں میں درجنوں امریکی فوجی زخمی ہوئے اور نقصانات چھپایا گیا: نیویارک ٹائمز ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، محسن نقوی نے استقبال کیا فیلڈ مارشل سے کینیڈین وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق آبنائے ہرمز سے امریکی اتحادیوں کی آمدورفت مشکل بنائیں گے، ایرانی فوج کا انتباہ لنڈی کوتل اور جمرود میں سیلابی ریلے میں بہنے والے 6 افراد کی لاشیں برآمد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہاں چوتھے بچے کی ولادت؛ نوزائیدہ بیٹے کا نام ایلک نیل وینس رکھ دیا 7 ویں این ایف سی اور آرٹیکل 160 کی وضاحت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے: مزمل اسلم اینڈی برنہم نے برطانیہ کے 59ویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

Web Desk

20 July 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی لائے تو سفارت کاری اب بھی ممکن ہے، کیونکہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے بجائے 3 بحری جہازوں پر حملے کیے، اور وہ اب بھی میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس کے جواب میں امریکا کارروائیاں کر رہا ہے۔ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ شدید معاشی بحران کے باعث تہران میں پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں، جہاں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا سخت مؤقف پر قائم ہے، اور اگر مذاکرات کے حامی کامیاب ہوتے ہیں تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس کا بوجھ صرف واشنگٹن پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دیگر ممالک کو بھی بحری وسائل، عسکری سازوسامان یا مالی معاونت کی صورت میں اس مشترکہ ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔