LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کہنیوں میں اسکریو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے، حنا جاوید قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی پاک بھارت جنگ کے دوران 11طیارے گرائے گئے، تمام جنگیں رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، صدر ٹرمپ میلانیا ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان حملوں کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنایا جائے گا، ایران ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا، سعودی فوجی اتحاد پیرس میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، 12 سالہ بچی سمیت 5 افراد شدید زخمی پاکستانی انڈر 21 ہاکی ٹیم سلطان آف جوہر ہاکی کپ کے فائنل میں پہنچ گئی زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا جنوبی مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3زخمی ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا

ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

Web Desk

20 July 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی لائے تو سفارت کاری اب بھی ممکن ہے، کیونکہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے بجائے 3 بحری جہازوں پر حملے کیے، اور وہ اب بھی میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس کے جواب میں امریکا کارروائیاں کر رہا ہے۔ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ شدید معاشی بحران کے باعث تہران میں پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں، جہاں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا سخت مؤقف پر قائم ہے، اور اگر مذاکرات کے حامی کامیاب ہوتے ہیں تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس کا بوجھ صرف واشنگٹن پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دیگر ممالک کو بھی بحری وسائل، عسکری سازوسامان یا مالی معاونت کی صورت میں اس مشترکہ ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔