LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

Web Desk

20 July 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی لائے تو سفارت کاری اب بھی ممکن ہے، کیونکہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے بجائے 3 بحری جہازوں پر حملے کیے، اور وہ اب بھی میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جس کے جواب میں امریکا کارروائیاں کر رہا ہے۔ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ شدید معاشی بحران کے باعث تہران میں پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں، جہاں ایک حلقہ مذاکرات کا حامی جبکہ دوسرا سخت مؤقف پر قائم ہے، اور اگر مذاکرات کے حامی کامیاب ہوتے ہیں تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس کا بوجھ صرف واشنگٹن پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دیگر ممالک کو بھی بحری وسائل، عسکری سازوسامان یا مالی معاونت کی صورت میں اس مشترکہ ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔