LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی، مراد علی شاہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناعاقبت اندیشی ہے: علامہ ناصر عباس راجہ وزیراعظم شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی صورِتحال پر بات چیت حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

پی آئی اے کی نجکاری کی بڑی پیش رفت، 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق

Web Desk

30 December 2025

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCoP) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے آئندہ لائحہ عمل پر اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں وزارتِ نجکاری کے سیکریٹری نے پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے اے ایچ سی کی قیادت میں کنسورشیم کی جانب سے دی گئی 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق کر دی، جو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت کے لیے منظور کی گئی ہے۔

کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری کابینہ کو بھیجنے کی سفارش بھی کر دی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نجکاری کا عمل بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے اپنے سنہرے دن دوبارہ حاصل کرے گی۔

اجلاس میں وزیر توانائی، وزیراعظم کے مشیران اور خصوصی معاونین کے علاوہ سیکریٹری کابینہ، دفاع، قانون، توانائی، صنعت و پیداوار اور نجکاری کمیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کابینہ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کو ملکی معیشت کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔