LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی 14 ستمبر سے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی سفر کی اجازت نہیں ہوگی پیٹرولیم مہنگائی پر ٹرانسپورٹرز کا کرائے 5 فیصد مزید بڑھانے کا اعلان سندھ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شرجیل میمن برس پڑے سندھ میں کوئی بھی صوبے کی تقسیم کے حق میں نہیں، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا: مراد علی شاہ

پی آئی اے کی نجکاری کی بڑی پیش رفت، 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق

Web Desk

30 December 2025

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCoP) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے آئندہ لائحہ عمل پر اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں وزارتِ نجکاری کے سیکریٹری نے پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے اے ایچ سی کی قیادت میں کنسورشیم کی جانب سے دی گئی 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق کر دی، جو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت کے لیے منظور کی گئی ہے۔

کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری کابینہ کو بھیجنے کی سفارش بھی کر دی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نجکاری کا عمل بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے اپنے سنہرے دن دوبارہ حاصل کرے گی۔

اجلاس میں وزیر توانائی، وزیراعظم کے مشیران اور خصوصی معاونین کے علاوہ سیکریٹری کابینہ، دفاع، قانون، توانائی، صنعت و پیداوار اور نجکاری کمیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کابینہ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کو ملکی معیشت کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔