LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی، مراد علی شاہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناعاقبت اندیشی ہے: علامہ ناصر عباس راجہ وزیراعظم شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی صورِتحال پر بات چیت حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

Web Desk

3 October 2026

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور دیگر اہم معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا، جبکہ فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔ مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان اسپیکر چیمبر سے روانہ ہوگئے، تاہم مذاکرات کے اگلے دور کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں کچھ چھوٹے معاملات پر بات ہوئی، لیکن فریقین کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، جبکہ عمران خان کے ذاتی معالج تک رسائی کے معاملے پر بھی ڈیڈلاک برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بھی اپوزیشن کو تحفظات تھے۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بھی مذاکرات میں ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق توقع تھی کہ دونوں فریق ایسے نکات پر متفق ہوجائیں گے جن کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مؤثر کردار ادا نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور اس حوالے سے اپنے کردار کی یقین دہانی کرائے۔ رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال مذاکرات کے اگلے دور کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے تحفظات سنے اور مذاکرات کے دوران معاہدے کا مسودہ چار مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ لانگ مارچ اور دیگر معاملات پر اپوزیشن نے معاہدے سے اتفاق نہیں کیا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ ایک جانب اپوزیشن بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور دیگر مطالبات پر پیش رفت چاہتی ہے، تو دوسری جانب حکومت نے لانگ مارچ روکنے اور دہشت گردی کے معاملے پر اپنا سخت مؤقف برقرار رکھا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے یا اختلافات کے باعث سیاسی کشیدگی مزید بڑھے گی؟ لانگ مارچ کا مستقبل اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ آئندہ سیاسی صورتحال کا رخ متعین کرسکتا ہے۔