LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا علاقائی و عالمی صورتحال کے تناظر میں اہم اجلاس آج طلب شرح سود برقرار رہے گی یا بڑھے گی؟ نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن کمیٹی تشکیل دے دی تیل کی بڑھتی قیمتیں عالمی امن کے لیے چھوٹی قربانی ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 9700 پوائنٹس کی کمی، ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ایرانی حملے جاری رہے تو نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا: سعودی عرب مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اسرائیل پر میزائل حملے، لبنان میں جھڑپیں، کئی شہری شہید ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1,929 زخمی: اعداد و شمار جاری پاک افغان کشیدگی :چین متحرک، نمائندہ کابل روانہ ایران اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ، ڈرون واقعے پر گفتگو ایران کی مسلح افواج نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا امریکا نے سعودی عرب میں سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا حکم دے دیا خیبرپختونخوا حکومت نے توانائی بچت کی وفاقی تجاویز پر اتفاق کر لیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کردیا گیا

اسلام آباد،خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد سیل کے چار سہولت کار گرفتار

Web Desk

14 November 2025

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس جی الیون میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد سیل کے چار سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان کے مطابق یہ مشترکہ کارروائی انٹیلی جنس بیورو (IB) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے کی، جس کا ہدف ٹی ٹی پی / فتنہ الخوارج کے اس نیٹ ورک کو توڑنا تھا جو اسلام آباد میں حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کر رہا تھا۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ خودکش حملہ آور کو ہدایات ٹی ٹی پی کے کمانڈر سعید الرحمان عرف “داد اللہ” نے ٹیلی گرام کے ذریعے دیں۔ “داد اللہ” کا تعلق ضلع باجوڑ کے علاقے نواگئی سے ہے اور اس وقت افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کا اہم انٹیلی جنس عہدیدار ہے۔

گرفتار ہینڈلر ساجد اللہ عرف “شینا” نے اعتراف کیا کہ اس نے خودکش حملہ آور کو سہولت فراہم کی، جبکہ حملے کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار دہشت گردوں سے مزید تفتیش جاری ہے، اور توقع ہے کہ اس نیٹ ورک کے مزید اہم کرداروں تک بھی رسائی حاصل کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت اسلام آباد اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔