LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہاں چوتھے بچے کی ولادت؛ نوزائیدہ بیٹے کا نام ایلک نیل وینس رکھ دیا 7 ویں این ایف سی اور آرٹیکل 160 کی وضاحت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے: مزمل اسلم اینڈی برنہم نے برطانیہ کے 59ویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مالی گوشوارے طلب کر لیے امریکا سے لڑائی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے: ایران پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس: عدالت کا جیل انتظامیہ سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم امریکا کا بوشہر میں زیر تعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ خطے کیلئے خطرناک ہے: ایران وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ شہباز شریف کے ہتکِ عزت دعوے کا کیس، وکیل کی درخواست پر دلائل طلب قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری سے مشروط عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ

اسلام آباد،خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد سیل کے چار سہولت کار گرفتار

Web Desk

14 November 2025

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس جی الیون میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد سیل کے چار سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان کے مطابق یہ مشترکہ کارروائی انٹیلی جنس بیورو (IB) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے کی، جس کا ہدف ٹی ٹی پی / فتنہ الخوارج کے اس نیٹ ورک کو توڑنا تھا جو اسلام آباد میں حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کر رہا تھا۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ خودکش حملہ آور کو ہدایات ٹی ٹی پی کے کمانڈر سعید الرحمان عرف “داد اللہ” نے ٹیلی گرام کے ذریعے دیں۔ “داد اللہ” کا تعلق ضلع باجوڑ کے علاقے نواگئی سے ہے اور اس وقت افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کا اہم انٹیلی جنس عہدیدار ہے۔

گرفتار ہینڈلر ساجد اللہ عرف “شینا” نے اعتراف کیا کہ اس نے خودکش حملہ آور کو سہولت فراہم کی، جبکہ حملے کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار دہشت گردوں سے مزید تفتیش جاری ہے، اور توقع ہے کہ اس نیٹ ورک کے مزید اہم کرداروں تک بھی رسائی حاصل کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت اسلام آباد اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔