LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف

لندن ہائیکورٹ: عادل راجہ کے بریگیڈیئر راشد پر الزامات جھوٹ کا مجموعہ، جرمانہ عائد

Web Desk

11 December 2025

لندن ہائیکورٹ نے عادل راجہ کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور بھاری قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا، عادل راجہ 2 لاکھ 60ہزار پاؤنڈ بطور عبوری اخراجات فوری ادا کرے۔

عدالتی فیصلہ کے مطابق جون 2022 کے تمام الزامات بے بنیاد، بلا ثبوت اور جھوٹ پر مبنی تھے، عادل راجہ 28 دن تک فیصلے کا خلاصہ تمام پلیٹ فارمز پر نمایاں جگہ پر لگانے کا پابند ہوگا، جھوٹے دعوے دہرانے سے روکنے کے لیے سخت ہدایت جاری کر دی۔فیصلہ میں کہا گیا کہ حکم نہ ماننے پر توہین عدالت، جرمانہ اور جیل ہو گی، پنجاب الیکشن، مبینہ ملاقاتوں اور رجیم چینج سے متعلق تمام بیانیے جھوٹ تھے، عادل راجہ کے الزامات کا مقصد شخصیت کشی تھا, حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔لندن ہائیکورٹ نے متعدد حساس نوعیت کے الزامات کو کلی طور پر ممنوع قرار دیا اور کہا کہ تمام ادائیگیاں 22 دسمبر 2025 تک لازمی کرنا ہوں گی، عادل راجہ کا بیانیہ بدنیتی پر مبنی اور جھوٹ کا مجموعہ ہے، عدالتی فیصلے کا لنک ہر پلیٹ فارم پر واضح اور نمایاں رہے گا۔