LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان آئی ایل او سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیراعظم روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا، مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں گے: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں تین وزراء کے محکموں میں ردوبدل ایران جنگ: برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی قطر کا سعودی خودمختاری کے تحفظ اور ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی حمایت کا اعلان ایرانی افواج کی انگلیاں ٹرگر پر،دشمن کی غلطی کے منتظر ہیں: ابراہیم عزیزی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، حرمین شریفین کے دفاع کیلئے مسلم امہ کا مضبوط اتحاد اپوزیشن اتحاد کی آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات طے، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور پارلیمانی امور پر مشاورت ہوگی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وفاقی وزراء ہیں: شوکت یوسفزئی وزیراعظم کی موسم سرما میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت آزاد جموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس اپوزیشن جان بوجھ کر مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کی آخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے: حکومتی مؤقف

گوادر کے ساحل پر معدومیت کے خطرے سے دوچار عربی وہیلوں کا بڑا گروپ نظر آ گیا

Web Desk

4 November 2025

عالمی ماحولیاتی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق عربی ہمپ بیک وہیلوں کا ایک بڑا گروپ گوادر کے ساحل کے قریب دیکھا گیا ہے۔ یہ وہیلیں معدومیت کے خطرے سے دوچار سمندری مخلوق میں شمار ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 6 سے زائد ہمپ بیک وہیلیں مغرب سے مشرق کی جانب ہجرت کرتی ہوئی دیکھی گئیں، جو گوادر سے تقریباً 11 ناٹیکل میل جنوب میں سمندر میں موجود تھیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ وہیلیں عموماً عمان سے پاکستان کے ساحلی علاقوں کی طرف ہجرت کرتی ہیں، جبکہ ان کی مستقل رہائش یمن اور سری لنکا کے درمیانی پانیوں میں ہوتی ہے۔ادارے کے مطابق پاکستانی سمندروں میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام پائی جاتی ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف نے بتایا کہ مقامی ماہی گیروں نے وہیلوں کی موجودگی کی اطلاع دی، جس کے بعد ماہرین