LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
غزہ کی اسلامی یونیورسٹی پر اسرائیلی حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی سعودی عرب میں دو بیلسٹک میزائل حملے ناکام، ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی کور کمیٹی کو غیر مؤثر بنانے کی خبریں بے بنیاد ہیں، حتمی اختیار بانی عمران خان کے پاس ہے: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا وفاق کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنا ہوگا: گورنر ایران کا بندر عباس کے قریب ایک اور امریکی ساختہ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ مولانا کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے: رانا سکندر حیات ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا ناقابل تصور جواب دیں گے: باقر قالیباف جنگ بندی کیلئے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری ہے، عباس عراقچی پوتن، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ممکنہ تاریخی ملاقات سے عالمی استحکام کی امیدیں وابستہ ملک بھر کے سکول و مدارس کے 5 لاکھ ہونہار طلبہ میں کروم بکس کی تقسیم کا آغاز پاکستان اور قطر کا تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق ترکیہ میں عالمی ملٹری ڈرون مقابلے میں پاکستان کی دوسری پوزیشن اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے مذاکرات پر زور مریم نواز کا جون 2027 تک 5734 واٹرفلٹریشن پلانٹ مکمل کرنے کا ہدف شکاگو میں پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد: پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے امریکی مارکیٹ کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر زور

گوادر کے ساحل پر معدومیت کے خطرے سے دوچار عربی وہیلوں کا بڑا گروپ نظر آ گیا

Web Desk

4 November 2025

عالمی ماحولیاتی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق عربی ہمپ بیک وہیلوں کا ایک بڑا گروپ گوادر کے ساحل کے قریب دیکھا گیا ہے۔ یہ وہیلیں معدومیت کے خطرے سے دوچار سمندری مخلوق میں شمار ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 6 سے زائد ہمپ بیک وہیلیں مغرب سے مشرق کی جانب ہجرت کرتی ہوئی دیکھی گئیں، جو گوادر سے تقریباً 11 ناٹیکل میل جنوب میں سمندر میں موجود تھیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ وہیلیں عموماً عمان سے پاکستان کے ساحلی علاقوں کی طرف ہجرت کرتی ہیں، جبکہ ان کی مستقل رہائش یمن اور سری لنکا کے درمیانی پانیوں میں ہوتی ہے۔ادارے کے مطابق پاکستانی سمندروں میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام پائی جاتی ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف نے بتایا کہ مقامی ماہی گیروں نے وہیلوں کی موجودگی کی اطلاع دی، جس کے بعد ماہرین