LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی مفتی کا حرمین شریفین پر حملے کا اعلان تشویشناک ہے: طاہر اشرفی نواز شریف کا 16 سال بعد ناران کا دورہ، مقامی عہدیداروں سے ملاقات پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا لانگ مارچ بے وقت کی راگنی: رانا تنویر حسین کل کی ریلی کرپٹ ترین حکومت کے خلاف علم بغاوت ہو گی: فاروق ستار خدمت کا جذبہ جاری رہے گا، ہم جھکنے، بھاگنے اور بکنے والے نہیں: حنیف عباسی خوردنی تیل، گھی کی ترسیل میں گٹھ جوڑ، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر 6 کروڑ جرمانہ پاکستان کو فساد اور لانگ مارچ نہیں، امن و استحکام کی ضرورت ہے: احسن اقبال وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کی رجسٹریشن مفت، سابقہ پابندی ختم کر دی: شزا فاطمہ ایم ڈی کیٹ 2026 کا انعقاد آ ج ہو گا، امتحان کی تیاریاں مکمل 27 ستمبر کو پتا چلے گا ریاست اپنی رِٹ کیسے قائم کرتی ہے: طلال چودھری روس یورپی ہمسایوں سے تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے: صدر پوتن ایندھن سبسڈی، قومی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، فیول ریلیف سکیم پر عملدرآمد کا جائزہ جماعت اسلامی کل سے لانگ مارچ شروع کر رہی ہے:حافظ نعیم الرحمان کا اعلان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس سے ملاقات اسحاق ڈار کا ملائیشین وزیر خارجہ سے رابطہ، تجارت، اقتصادی تعاون بارے گفتگو

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس سے ملاقات

Web Desk

19 September 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے قائد حزبِ اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور قائد حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سے ایک اہم سیاسی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں ۲۷ ستمبر کی احتجاجی کال کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل، تحریک کے خدوخال اور مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے ملک میں جمہوری جدوجہد کو موثر اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا۔

ملاقات کے دوران تمام رہنماؤں نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ ۲۷ ستمبر کی کال کو آئین کی بالادستی، آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک منظم سیاسی تحرک کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی حقوق کی بحالی کے لیے تمام جمہوریت پسند قوتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں، ملاقات میں صوبوں کے آئینی حقوق، خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ۲۷ ستمبر کی کال کو ملک گیر سطح پر موثر، پرامن اور منظم بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر مشاورت کی گئی۔ رہنماؤں نے عزم کا اعادہ کیا کہ تمام اکائیاں اپنے حقوق اور جمہوریت کی بحالی کے لیے مشترکہ اور مسلسل جدوجہد جاری رکھیں گی۔