LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء: اقتدار، قید اور سیاسی جدوجہد کی مکمل داستان

Web Desk

30 December 2025

بنگلادیش کی سیاست میں نمایاں مقام رکھنے والی اور بنگلادیش نیشنل پارٹی کی سربراہ، ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء نے 1991 میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ وہ بنگلادیش کے سابق صدر اور فوجی سربراہ جنرل ضیاء الرحمٰن کی اہلیہ تھیں۔

بیگم خالدہ ضیاء 15 اگست 1946 کو بنگلادیش کے ضلع دیناج پور میں پیدا ہوئیں۔ 1960 میں انہوں نے فوجی افسر ضیاء الرحمٰن سے شادی کی، اس وقت ان کی عمر تقریباً 15 برس تھی۔ 1971 کی جنگِ آزادی کے بعد ضیاء الرحمٰن ایک قومی ہیرو کے طور پر ابھرے، بعد ازاں 1977 میں صدر منتخب ہوئے اور 1978 میں بنگلادیش نیشنل پارٹی (BNP) کی بنیاد رکھی۔

1981 میں ایک ناکام فوجی بغاوت کے دوران جنرل ضیاء الرحمٰن کے قتل کے بعد خالدہ ضیاء عملی سیاست میں میدان میں آئیں اور جلد ہی بنگلادیش نیشنل پارٹی کی قیادت سنبھال لی۔

1991 کے عام انتخابات کو بنگلادیش کی تاریخ کے پہلے آزادانہ انتخابات قرار دیا جاتا ہے، جن میں خالدہ ضیاء نے اپنی دیرینہ سیاسی حریف شیخ حسینہ واجد کو شکست دی۔ ان انتخابات میں انہیں ملک کی بڑی مذہبی جماعت جماعتِ اسلامی کی حمایت بھی حاصل رہی۔

1996 میں وہ انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکیں، تاہم 2001 میں شاندار اکثریت کے ساتھ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ اکتوبر 2006 میں عام انتخابات سے قبل انہوں نے اقتدار چھوڑ دیا۔

سیاسی کیریئر کے دوران خالدہ ضیاء کو متعدد بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جن کے تحت 2018 میں انہیں پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی مقدمے میں ان کے صاحبزادے طارق رحمٰن کو بھی سزا ہوئی، جس میں ایک یتیم خانے کے لیے موصول ہونے والی تقریباً ڈھائی لاکھ ڈالر کی غیر ملکی امداد میں مبینہ بدعنوانی کا الزام شامل تھا۔

خالدہ ضیاء نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ خراب صحت کے باعث مارچ 2020 میں انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیل سے گھر منتقل کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ بعدازاں 2025 میں بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں خالدہ ضیاء اور طارق رحمٰن کو بری کر دیا، جس کی بنیاد پر انہیں 2018 میں سزا سنائی گئی تھی۔

عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد سے ان کی دہائیوں پر محیط سیاسی رقابت بنگلادیش کی سیاست کا اہم باب رہی۔ بالآخر گزشتہ برس شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔

یاد رہے کہ خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمٰن 17 برس کی جلاوطنی کے بعد چند روز قبل بنگلادیش واپس پہنچے ہیں۔