LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب: پنجاب کے دونوں حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کامیاب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد

ایک دن میں 68 فیصد صارفین کے پاس ورڈز ہیک ہو سکتے ہیں: سائبر سکیورٹی کمپنی

Web Desk

18 May 2026

سائبر سکیورٹی کمپنی نے سپرسکی کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر ہیک کیے جا سکتے ہیں۔

کمپنی کی رپورٹ کے مطابق صارفین کی جانب سے آسان نمبرز، عام الفاظ اور مخصوص علامات کے استعمال نے سائبر حملہ آوروں کے لیے پاس ورڈ توڑنا انتہائی آسان بنا دیا ہے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی کی جانب سے 2023 سے 2026 کے دوران لیک ہونے والے 23 کروڑ 10 لاکھ منفرد پاس ورڈز کے تجزیے میں کئی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جدید دور میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر توڑے جا سکتے ہیں۔
اِسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر متاثرہ پاس ورڈز یا تو کسی ہندسے سے شروع ہوتے ہیں یا پھر ہندسے پر ختم ہوتے ہیں، جو صارفین کی ایک عام عادت ہے اور یہی بات انہیں ’بروٹ فورس‘ حملوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتی ہے۔
دوسری جانب حالیہ برسوں میں محفوظ پاس ورڈز کے اصولوں پر کافی بحث ہوئی اور متعدد آن لائن سروسز اب کم از کم 10 حروف، ایک بڑا حرف اور کوئی نمبر یا علامت شامل کرنے کی شرط عائد کرتی ہیں، تاہم صرف ان اصولوں پر عمل کرنا بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ صرف ایک علامت استعمال کرنے والے پاس ورڈز میں ’@‘ سب سے زیادہ عام تھا، جو 10 فیصد کیسز میں دیکھا گیا، جبکہ ’.‘ 3 فیصد پاس ورڈز میں شامل تھا۔ اسی طرح 53 فیصد پاس ورڈز اعداد پر ختم ہوتے ہیں، 17 فیصد اعداد سے شروع ہوتے ہیں اور تقریباً 12 فیصد میں تاریخ جیسی عددی ترتیب شامل ہوتی ہے۔
ماہرِ ڈیٹا سائنس الیکسی انتونوف کا کہنا تھا کہ عام علامات، نمبرز یا تاریخوں کا استعمال، خاص طور پر پاس ورڈ کے آغاز یا اختتام پر، سائبر مجرموں کے لیے پاس ورڈ ہیک کرنا انتہائی آسان بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بروٹ فورس حملوں میں کمپیوٹر مسلسل مختلف حروف اور نمبرز آزما کر درست پاس ورڈ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب حملہ آوروں کو صارفین کی عام عادات کا اندازہ ہو تو پاس ورڈ توڑنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 8 حروف تک کے مختصر پاس ورڈز عام طور پر ایک دن سے بھی کم وقت میں ہیک کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید الگورتھمز کی وجہ سے 15 حروف پر مشتمل 20 فیصد سے زائد پاس ورڈز بھی ایک منٹ سے کم وقت میں توڑے جا سکتے ہیں۔