LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران

کراچی: 6 سالہ بچے کی تشدد زدہ لاش برآمد، پڑوسی نے زیادتی کے بعد قتل کردیا

Web Desk

8 July 2026

کراچی کے علاقے نیپئیر میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 6 سال کے معصوم بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جو مقتول کا پڑوسی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق، کمسن ولی کو پیر کی شام اس کے گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا۔ مقتول کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ بچے کی تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاش کو بوری میں بند کر کے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکا گیا۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کر دیا ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

اہلِ خانہ کے مطابق، وہ دو دن سے معصوم ولی کو تلاش کر رہے تھے۔ یہ لرزہ خیز واردات پڑوسی کے گھر میں ہی انجام دی گئی، اور جب وہ بچے کو ڈھونڈ رہے تھے تو ملزم نے انہیں اپنے گھر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ مقتول کے والد نے بتایا کہ ملزم ان کے ساتھ مل کر بچے کو ڈھونڈنے کا ڈرامہ بھی کرتا رہا۔ مقتول کے والد، جو کہ ایک رکشہ ڈرائیور ہیں، نے غم سے نڈھال ہوتے ہوئے بتایا کہ ان کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا، اور ولی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔

اہلِ علاقہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شک ہونے پر ملزم حمزہ کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزم کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔