LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان این سی سی آئی اے میں نفری کم، وفاقی پولیس کا 23 افسران بھجوانے کا فیصلہ روس کے سرحدی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 7 زخمی روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے، عبدالعزیز الوصل جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام

ڈیجیٹائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹر اور ساتواں ٹیلی میڈیسن یونٹ کا افتتاح کر دیا

Web Desk

14 February 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی کے گارڈن علاقے میں ڈیجیٹائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹر اور ساتواں ٹیلی میڈیسن بیسک یونٹ کا افتتاح کیا۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق دنیا بھر میں مریضوں کو بڑی بیماری میں اسپتال جانے کی ضرورت کم کرنے کے لیے ہیلتھ کیئر تین درجوں میں تقسیم کی گئی ہے:

  1. پرائمری کیئر: سر درد، بلڈ پریشر اور چھوٹی بیماریوں کا علاج۔

  2. سیکنڈری کیئر: ڈلیوری، سی ٹی اسکین، اور لیب ٹیسٹ۔

  3. ٹرشری کیئر: بڑی بیماریوں اور حادثات کے لیے اسپتال۔

ریسرچ کے مطابق ستر فیصد مریضوں کا علاج پرائمری ہیلتھ سینٹر سے ہونا چاہیے، لیکن ہمارے بڑے اسپتالوں میں ہزاروں مریض اوپی ڈیز میں لائنیں لگا کر علاج کروا رہے ہیں۔

گارڈن میں کھلے اس نئے ٹیلی میڈیسن سینٹر میں صبح آٹھ سے ایک بجے اور دوپہر ایک سے شام چھ بجے تک ڈاکٹر آن لائن مریض کا معائنہ کریں گے۔ ڈاکٹر ملیشیا میں بیٹھ کر بھی گارڈن کے مریض کا چیک اپ کر رہی تھی جبکہ وائٹلز یہاں سے ڈاکٹر مانیٹر کر رہا تھا۔

پراجیکٹ میں پانچ ہزار نئے پاکستانی ڈاکٹرز شامل کیے گئے ہیں اور مقامی کمیونٹی کے لیے دو دن اسپیشلسٹ بھی مختص کیے گئے ہیں۔

مصطفی کمال نے کہا کہ ہمیں صحت مند زندگی گزارنی ہے، بیماری سے بچاؤ پر توجہ دینی ہے اور قریبی ہیلتھ کیئر سینٹر کے ذریعے بڑے اسپتالوں پر دباؤ کم کرنا ہے۔ وفاقی حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر ٹیلی میڈیسن کو فروغ دینے کا بھی کام شروع کر دیا ہے۔