LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

گوادر حادثہ: کے ٹو ایئرویز کے تباہ ہونے والے کارگو طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن قبل ختم ہونے کا انکشاف

Web Desk

15 August 2026

گوادر کے قریب گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے ‘کے ٹو ایئرویز’ (K2 Airways) کے کارگو طیارے سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن پہلے ہی مبینہ طور پر ختم ہو چکی تھی۔ دستاویزات کے مطابق 7 جولائی کو حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی انشورنس پالیسی 24 جون 2026 کو منسوخ/ختم ہو چکی تھی، جبکہ نجی انشورنس کمپنی کی جانب سے اس کا سرٹیفکیٹ 24 جون 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے کے پاس موثر انشورنس کوریج موجود نہیں تھی، حالانکہ کاغذات کے مطابق ‘کے ٹو ایئرویز آل ہل رسک انشورنس’ 100 فیصد درج تھی اور مخصوص علاقوں کے علاوہ طیارہ دنیا بھر کے لیے بیمہ شدہ تھا۔

اس سنگین معاملے پر ایئر لائن اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے موقف بھی سامنے آئے ہیں۔ کے ٹو ایئرویز کے نمائندے لقمان رشید کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کا تمام بنیادی ریکارڈ اس وقت ‘تحقیقاتی بورڈ’ کی تحویل میں ہے، جس کے باعث وہ فی الحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب، ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ‘ڈپٹی ڈی جی سی اے اے’ نے واضح کیا ہے کہ سی اے اے کے پاس ایئر لائن کے پاسپورٹ اور ریکارڈ میں صرف کے ٹو ایئرویز کو جاری کردہ ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ (AOC) موجود ہے، جبکہ حادثے کی تمام جہتوں اور قانونی دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔