LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ انصاف کا ٹرمپ انتظامیہ کے دوران سب سے بڑا اقدام، سنگین جرائم میں ملوث 40 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی شروع پاکستان آئی ایل او سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیراعظم روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا، مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں گے: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں تین وزراء کے محکموں میں ردوبدل ایران جنگ: برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی قطر کا سعودی خودمختاری کے تحفظ اور ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی حمایت کا اعلان ایرانی افواج کی انگلیاں ٹرگر پر،دشمن کی غلطی کے منتظر ہیں: ابراہیم عزیزی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، حرمین شریفین کے دفاع کیلئے مسلم امہ کا مضبوط اتحاد اپوزیشن اتحاد کی آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات طے، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور پارلیمانی امور پر مشاورت ہوگی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وفاقی وزراء ہیں: شوکت یوسفزئی وزیراعظم کی موسم سرما میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت آزاد جموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

گوادر حادثہ: کے ٹو ایئرویز کے تباہ ہونے والے کارگو طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن قبل ختم ہونے کا انکشاف

Web Desk

15 August 2026

گوادر کے قریب گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے ‘کے ٹو ایئرویز’ (K2 Airways) کے کارگو طیارے سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق طیارے کی انشورنس حادثے سے 13 دن پہلے ہی مبینہ طور پر ختم ہو چکی تھی۔ دستاویزات کے مطابق 7 جولائی کو حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی انشورنس پالیسی 24 جون 2026 کو منسوخ/ختم ہو چکی تھی، جبکہ نجی انشورنس کمپنی کی جانب سے اس کا سرٹیفکیٹ 24 جون 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے کے پاس موثر انشورنس کوریج موجود نہیں تھی، حالانکہ کاغذات کے مطابق ‘کے ٹو ایئرویز آل ہل رسک انشورنس’ 100 فیصد درج تھی اور مخصوص علاقوں کے علاوہ طیارہ دنیا بھر کے لیے بیمہ شدہ تھا۔

اس سنگین معاملے پر ایئر لائن اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے موقف بھی سامنے آئے ہیں۔ کے ٹو ایئرویز کے نمائندے لقمان رشید کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کا تمام بنیادی ریکارڈ اس وقت ‘تحقیقاتی بورڈ’ کی تحویل میں ہے، جس کے باعث وہ فی الحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب، ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ‘ڈپٹی ڈی جی سی اے اے’ نے واضح کیا ہے کہ سی اے اے کے پاس ایئر لائن کے پاسپورٹ اور ریکارڈ میں صرف کے ٹو ایئرویز کو جاری کردہ ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ (AOC) موجود ہے، جبکہ حادثے کی تمام جہتوں اور قانونی دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔