LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس متوقع، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور بھارت کی ہندوتوا پالیسی پر مبنی سیاست خطے میں بدامنی کا باعث ہے: مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی انٹرنیشنل ماسٹرز ویٹ لفٹنگ، ایل سی ڈبلیو یو کی طالبہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لئے خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری وزیرخزانہ نے خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیدیا امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج سعودیہ پر حوثیوں کے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ

جیفری ایپسٹین کے خواتین کو قابو کرنے کے نفسیاتی و مالی حربے بے نقاب

Web Desk

6 September 2026

نیویارک: بدنامِ زمانہ امریکی ارب پتی جیفری ایپسٹین کے ہاتھوں جنسی اور نفسیاتی استحصال کا شکار ہونے والی خاتون جولیا مولچانووا پہلی بار علانیہ منظرِ عام پر آ گئی ہیں اور انہوں نے ایپسٹین کے طریقۂ کار اور مالی و جذباتی بلیک میلنگ کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

دی وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں جولیا مولچانووا نے بتایا کہ ایپسٹین اپنے گھروں اور اپارٹمنٹس میں موجود یرغمال یا متاثرہ خواتین کے لیے ‘اسسٹنٹ’ کی اصطلاح استعمال کرتا تھا تاکہ قانونی چھتری کے تحت جنسی و جسمانی زیادتی کو چھپایا جا سکے۔ جولیا کے مطابق، 22 سال کی عمر میں روس سے نیویارک آمد پر ایپسٹین نے فیشن انڈسٹری میں کیریئر اور تعلیمی داخلے کا جھانسہ دے کر انہیں اپنے دامِ فریب میں جکڑا اور بعد ازاں ایک اپارٹمنٹ میں منتقل کر دیا جہاں دیگر خواتین بھی موجود تھیں۔

جولیا مولچانووا نے انکشاف کیا کہ ایپسٹین خواتین کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے ان کے لباس، بالوں کی تراش خراش اور وزن تک کی ہدایات دیتا تھا، جبکہ ان کے نام پر جاری کردہ کریڈٹ کارڈز، لیپ ٹاپس اور فونز کی مکمل مالی و دیجیتل نگرانی کی جاتی تھی۔ انکار کی صورت میں 24 گھنٹے تک کمروں میں قید رکھنے اور دوستوں و خاندان سے کاٹ دینے کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بااثر سیاسی و معاشی شخصیت ہونے کے باعث ایپسٹین کے خلاف پولیس یا حکام سے رجوع کرنا جان لیوا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔