LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام

زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود کہکشاں کی تصویر جاری

Web Desk

18 May 2026

امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ (NASA) کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) نے خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے زمین سے کروڑوں نوری سال دور موجود ایک شاندار اور غیر معمولی کہکشاں (Galaxy) کی دلکش ترین تصویر جاری کی ہے۔ اس تصویر نے کائنات کی گہرائیوں میں موجود بلیک ہول کے گرد بننے والے روشن ترین نظام کے کئی پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ماہرینِ فلکیات (Astronomers) کے مطابق، اس کہکشاں کا سائنسی نام ’میسیئر 77‘ (Messier 77 یا M77) ہے، جسے کائناتی زبان میں ’سکوئیڈ گلیکسی‘ (Squid Galaxy) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کہکشاں زمین سے لگ بھگ 4 کروڑ 50 لاکھ نوری سال (Light-years) کے طویل فاصلے پر ’سیٹس‘ (Cetus) نامی جھرمٹ (Constellation) میں واقع ہے۔ ہماری اپنی کہکشاں ’ملکی وے‘ (Milky Way) کی طرح یہ بھی ایک ’بارڈ اسپائرل گلیکسی‘ (Barred Spiral Galaxy) ہے، یعنی اس کے مرکز سے ستاروں کی گھومتی ہوئی خوبصورت بازو نکل رہی ہیں، مگر اس کا مرکز کائناتی اصولوں کے برعکس غیر معمولی حد تک چمکدار اور روشن ہے۔

سائنسدانوں نے جیمز ویب کی انفراریڈ نظروں کی مدد سے اس شدید چمک کی سائنسی وجہ کا پتا لگا لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کہکشاں کے عین مرکز میں ایک ’ایکٹو گیلیکٹک نیوکلیئس‘ (Active Galactic Nucleus – AGN) موجود ہے۔ یہ اصل میں ایک دیوقامت اور انتہائی طاقتور ’سپر میسو بلیک ہول‘ (Supermassive Black Hole) ہے، جس کا وزن ہمارے سورج سے تقریباً 80 لاکھ گنا زیادہ ہے۔ یہ بلیک ہول اپنے گرد موجود بے تحاشہ مادے، گیسوں اور ستاروں کو انتہائی تیز رفتاری سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔بلیک ہول کی شدید ترین کششِ ثقل (Gravity) کے باعث جب مادہ اس کے اندر گرنے لگتا ہے، تو وہ اس کے اطراف ایک دائرے کی شکل میں چکر کاٹنے لگتا ہے جسے سائنسی اصطلاح میں ’اکریشن ڈسک‘ (Accretion Disk) کہا جاتا ہے۔ گیس اور گرد و غبار کا یہ خوفناک بھنور آپس کی رگڑ اور رفتار کی وجہ سے اس حد تک گرم ہو جاتا ہے کہ اس سے نکلنے والی حرارت اور روشنی پوری کہکشاں کے اربوں ستاروں کی مجموعی روشنی پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی اس نئی تصویر نے کائنات کے اس خوفناک مگر خوبصورت منظر کو اس کی اصل شکل میں انسانوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔