LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مہنگائی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپوزیشن گرینڈ الائنس کا جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ پنجاب میں 3 ماہ کی گرمیوں کی تعطیلات کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج، سماعت آج ہوگی رواں برس خطبۂ حج مسجد نبوی ﷺ کے امام و خطیب شیخ علی الحذیفی دیں گے شفاف اور فوری انتخابات کرائے جائیں، ملک میں عوامی مینڈیٹ کی بحالی ضروری ہے: مولانا فضل الرحمان ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا امریکی صدر ٹرمپ کا سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر حملہ مؤخر کرنے کا اعلان ایلون مسک اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ ہار گئے، امریکی جیوری کا فیصلہ امریکا کے شہر سین ڈیاگو کی مسجد میں فائرنگ، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی وفد کی پیر پگارا سے اہم ملاقات، سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کرپشن، بدعنوانی عروج پر، کے پی میں گورننس نام کی چیز نہیں: عطا تارڑ ’اب بہت ہو گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے‘؛ اپوزیشن اجلاس اسٹاک مارکیٹ کریش، 100 انڈیکس کی 3700 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ تنزلی اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران

زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود کہکشاں کی تصویر جاری

Web Desk

18 May 2026

امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ (NASA) کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) نے خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے زمین سے کروڑوں نوری سال دور موجود ایک شاندار اور غیر معمولی کہکشاں (Galaxy) کی دلکش ترین تصویر جاری کی ہے۔ اس تصویر نے کائنات کی گہرائیوں میں موجود بلیک ہول کے گرد بننے والے روشن ترین نظام کے کئی پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ماہرینِ فلکیات (Astronomers) کے مطابق، اس کہکشاں کا سائنسی نام ’میسیئر 77‘ (Messier 77 یا M77) ہے، جسے کائناتی زبان میں ’سکوئیڈ گلیکسی‘ (Squid Galaxy) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کہکشاں زمین سے لگ بھگ 4 کروڑ 50 لاکھ نوری سال (Light-years) کے طویل فاصلے پر ’سیٹس‘ (Cetus) نامی جھرمٹ (Constellation) میں واقع ہے۔ ہماری اپنی کہکشاں ’ملکی وے‘ (Milky Way) کی طرح یہ بھی ایک ’بارڈ اسپائرل گلیکسی‘ (Barred Spiral Galaxy) ہے، یعنی اس کے مرکز سے ستاروں کی گھومتی ہوئی خوبصورت بازو نکل رہی ہیں، مگر اس کا مرکز کائناتی اصولوں کے برعکس غیر معمولی حد تک چمکدار اور روشن ہے۔

سائنسدانوں نے جیمز ویب کی انفراریڈ نظروں کی مدد سے اس شدید چمک کی سائنسی وجہ کا پتا لگا لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کہکشاں کے عین مرکز میں ایک ’ایکٹو گیلیکٹک نیوکلیئس‘ (Active Galactic Nucleus – AGN) موجود ہے۔ یہ اصل میں ایک دیوقامت اور انتہائی طاقتور ’سپر میسو بلیک ہول‘ (Supermassive Black Hole) ہے، جس کا وزن ہمارے سورج سے تقریباً 80 لاکھ گنا زیادہ ہے۔ یہ بلیک ہول اپنے گرد موجود بے تحاشہ مادے، گیسوں اور ستاروں کو انتہائی تیز رفتاری سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔بلیک ہول کی شدید ترین کششِ ثقل (Gravity) کے باعث جب مادہ اس کے اندر گرنے لگتا ہے، تو وہ اس کے اطراف ایک دائرے کی شکل میں چکر کاٹنے لگتا ہے جسے سائنسی اصطلاح میں ’اکریشن ڈسک‘ (Accretion Disk) کہا جاتا ہے۔ گیس اور گرد و غبار کا یہ خوفناک بھنور آپس کی رگڑ اور رفتار کی وجہ سے اس حد تک گرم ہو جاتا ہے کہ اس سے نکلنے والی حرارت اور روشنی پوری کہکشاں کے اربوں ستاروں کی مجموعی روشنی پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی اس نئی تصویر نے کائنات کے اس خوفناک مگر خوبصورت منظر کو اس کی اصل شکل میں انسانوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔