LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کائنات کے ابتدا ئی مراحل کی نئی معلومات جاری

Web Desk

30 January 2026

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے محققین نے ایک روشن گلیکسی دریافت کی ہے جو کائنات کے ابتدائی مراحل کے بارے میں نئی اور حیران کن معلومات فراہم کر رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق اس گلیکسی کا نام MoM-z14 رکھا گیا ہے، جو بگ بینگ کے تقریباً 280 ملین سال بعد موجود تھی۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت کائنات کی 13.8 ارب سالہ موجودگی میں ابتدائی دور کے سب سے قریبی شواہد میں شمار ہوتی ہے۔

میسی چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے روحان نائیدو نے بتایا کہ جیمز ویب نے ہمیں وہ منظر دکھایا ہے جسے انسان پہلے کبھی نہیں دیکھ پایا، اور یہ پیش گوئی کے مطابق نہیں ہے، جو تحقیق کو چیلنجنگ اور پرجوش دونوں بناتا ہے۔

ویب کے نیئر انفراریڈ اسپیکٹروگراف آلے کے ذریعے محققین نے MoM-z14 کی روشنی کے ویو لینتھ کا تجزیہ کیا اور اس کی مدت کا تعین کیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ گلیکسی میں ہائی نائٹروجن کی مقدار توقع سے زیادہ تھی، جو سائنسدانوں کی پیش گوئیوں کے مطابق ممکن نہیں تھی۔

مزید برآں، یہ دریافت ری آئنائزیشن کے عمل کے مطالعے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، یعنی ستاروں کی روشنی نے ابتدائی ہائیڈروجن کے دھند کو کیسے توڑا اور کائنات میں پھیلا۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ییجیا لی نے کہا کہ یہ انتہائی خوشی کا لمحہ ہے، کیونکہ جیمز ویب کی مدد سے کائنات کے ابتدائی رازوں کی کھوج ممکن ہو رہی ہے اور مزید معلومات دریافت کی جا سکتی ہیں۔