LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

مصنوعی ذہانت آئندہ 10 برسوں میں انسانیت کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، جیکب کاکسن

Web Desk

11 September 2026

مصنوعی ذہانت (AI) کے ممتاز محقق جیکب کاکسن نے اینتھروپک (Anthropic) سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے اے آئی کے مستقبل اور انسانی بقا سے متعلق انتہائی تشویشناک اور سنگین انکشافات کیے ہیں۔ اوپن اے آئی (OpenAI) میں بھی اہم خدمات انجام دینے والے جیکب کاکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی کی تیز رفتار پیش رفت کو کنٹرول نہ کیا گیا تو موجودہ دہائی کے اختتام تک انسانیت کو شدید تباہ کن خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینتھروپک اور اوپن اے آئی جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والی ‘سپر انٹیلیجنس’ تیار کرنے کی شدید دوڑ میں شامل ہیں، لیکن اس صلاحیت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کے لیے درکار حفاظتی اقدامات تاحال انتہائی نا کافی ہیں۔

ان کے مطابق اگر اے آئی سسٹمز کو خود اپنے ہی الگورتھم کی تحقیق اور بہتری کے لیے استعمال کیا جانے لگا تو ٹیکنالوجی کے ارتقاء کی رفتار انسانی کنٹرول سے باہر ہو جائے گی، جس سے سائبر حملوں اور اہم ترین قومی انفراسٹرکچر پر کنٹرول حاصل کرنے کے خطرات جنم لیں گے۔ کاکسن کے ان خدشات کی اینتھروپک کے الائنمنٹ سائنس لیڈ ایون ہیوبنگر نے بھی جزوی طور پر تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اگلی دہائی میں اے آئی کے باعث انسانی وجود کے خاتمے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ سمجھتے ہیں، اگرچہ اینتھروپک ان خطرات کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ کاکسن کے استعفے اور بیانات کے بعد عالمی سطح پر اے آئی سیفٹی اور سپر انٹیلیجنس کے ضوابط پر نئی بحث چھیڑ گئی ہے۔