LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایکس کی بڑی پیشکش : صرف اسکرولنگ سے ہزاروں ڈالر کمائیں پاکستان میں زیر تعلیم 38 فلسطینی طلبہ نے بی ڈی ایس کی ڈگری مکمل کر لی حیدرآباد میں تیزگام ایکسپریس کی ایک بوگی پٹڑی سے اتر گئی، ٹریک متاثر اسحاق ڈار سے اردنی وزیر خارجہ کا رابطہ، غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کویت کے وزیر خارجہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے واشنگٹن میں نیتن یاہو کی آمد پر احتجاج، مظاہرین نے گرفتاری کا مطالبہ کر دیا پٹرول 1 روپے 63 پیسے، ڈیزل 1 روپے 55 پیسے فی لٹر مہنگا پُرتشدد جتھے کے عزائم ناکام بنا دیئے، کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنے دینگے: عطا تارڑ ایران کی منجمد اثاثے حاصل کرنیوالے ممالک، کمپنیوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان نیتن یاہو جنگ میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ لیگی قیادت کی تنقید پر شیری رحمان کا سخت ردعمل، انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرا دیے آزاد کشمیر احتجاج کے پیچھے بھارتی سپانسرڈ لوگ ہیں: خواجہ آصف این ڈی ایم اے کی رپورٹ: ملک بھر میں مون سون بارشوں سے 109 افراد جاں بحق، 362 زخمی بھارت میں موسلادھار بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی علاقے زیرِآب، 10افراد ہلاک سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید، معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے

ایران کی منجمد اثاثے حاصل کرنیوالے ممالک، کمپنیوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان

Web Desk

28 July 2026

ایران نے بین الاقوامی برادری اور بحری کمپنیوں کو سخت خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جن ممالک یا کمپنیوں نے ایران کے منجمد اثاثوں کو بطورِ تاوان یا زرِ تلافی حاصل کیا، ان کے کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خلیج فارس میں متاثرہ جہازوں کے معاوضے کے لیے ایرانی اثاثوں کے استعمال کی تجویز کو مکمل طور پر غیر قانونی اور ڈکیتی کے مترادف قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی جہاز کے مالک، کمپنی یا ملک نے امریکی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایران کے غصب شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھایا تو انہیں اس کے شدید نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ایرانی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ ایسے تمام افراد اور اداروں کے مال بردار و تیل بردار جہازوں پر آبنائے ہرمز کی اہم بحری گزرگاہ سے آمدورفت پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت ایکشن لیا جائے گا۔

ایرانی حکام نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں خلیجی پانیوں میں مختلف آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تمام تر ذمہ داری خطے میں امریکی فوج کی بلاجواز موجودگی اور اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال پر عائد ہوتی ہے۔ بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ جن جہازوں کو ماضی میں نشانہ بنایا گیا، انہوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ ملاحت کے لیے ایران کی جانب سے وضع کردہ بین الاقوامی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی کی تھی اور وہ غیر قانونی اور غیر محفوظ جنوب مغربی راستوں کو استعمال کر رہے تھے۔