LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا عراق کے کردستان ریجن کی فوجی امداد ختم کرنے کا منصوبہ لبنانی حکومت اسرائیل کو وہ سب کچھ دے رہی ہے جو وہ چاہتا ہے، سربراہ حزب اللہ یو اے ای سمیت خطے کے تمام ممالک سے افہام و تفہیم کیلئے تیار ہیں، ایرانی صدر ایرانی سپریم لیڈر کا حکومت کو ایران کی طاقت اور مزاحمت اجاگر کرنے کا حکم امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کراچی: ڈیفنس خیابانِ بخاری کے فلیٹ میں خواتین کا جھگڑا، نئی فوٹیج سامنے آگئی پولیس ایپلیکیشنز سے عوام کی شکایات کم کرنے میں مدد ملے گی: سرفراز بگٹی نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے پاکستانی قوم کو بھی غمزدہ کر دیا: بلاول بھٹو ناظم آباد کے نجی ہسپتال میں مبینہ حمل کے تنازع پر توڑ پھوڑ، ہوشربا انکشافات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی یوسف رضا گیلانی کا دورہ کمبوڈیا، عالمی مسائل کے حل کیلئے پارلیمانی کردار پر زور پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان مصطفیٰ کمال نے پمز دورے سے پہلے ہی استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا تھا: بیرسٹر عقیل پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی کا عمل روک دیا گیا چوہدری محمد یاسین آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر

حملہ ہوا تو دشمن کے فوجی اڈے اور اثاثے نشانہ بنیں گے، ایران کا واضح انتباہ

Web Desk

20 February 2026

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کوئی فوجی جارحیت کی گئی تو وہ بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ممکنہ فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایران جنگ یا کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے سخت کارروائی کرے گا۔

ایرانی مشن نے واضح کیا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈے، تنصیبات اور دیگر اثاثے جائز ہدف تصور کیے جائیں گے۔

خط میں امریکی صدر کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا کو ڈیگو گارشیا اور رائل فضائیہ کے فیئر فورڈ ہوائی اڈے استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔