LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

امریکہ عالمی حمایت کا جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایرانی مشن

Web Desk

16 May 2026

اقوامِ متحدہ میں تعينات ایرانی مشن نے بحرین کی حمایت یافتہ اور امریکہ کی جانب سے پیش کردہ آبنائے ہرمز قرارداد کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اس قرارداد کے شریک ممالک کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ عالمی حمایت کا ایک جھوٹا تاثر پیدا کیا جا سکے۔ ایرانی مشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قرارداد کی وجہ سے خطے میں کشیدگی یا جنگی ماحول میں کوئی اضافہ ہوتا ہے، تو اس پر دستخط کرنے اور اس کی حمایت کرنے والے تمام ممالک بھی بین الاقوامی سطح پر اس کے نتائج کے برابر کے ذمہ دار سمجھے جائیں گے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ خطے میں امریکی جارحیت اور مداخلت کو ممکن بنانے کے لیے دنیا میں کوئی بھی سیاسی جواز یا سفارتی تحفظ موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کا بظاہر مقصد آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا اور خلیج میں ایران کی مبینہ عسکری کارروائیوں کا خاتمہ کرنا ہے، تاہم تہران اسے اپنے خلاف ایک سیاسی محاذ آرائی تصور کرتا ہے۔