LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں پنجاب اسمبلی میں ترقی، جدید کاری کیلئے 7 ارب 41 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ملک بھر میں شدید ہیٹ ویو کا الرٹ؛ درجہ حرارت 46 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات تنخواہوں میں 10 تا15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے وزیراعظم کی قیادت میں پاک چین معاشی تعاون نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے، ملک احمد خان گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026؛ الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل، پولنگ کا سامان پرزائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کرنے کا عمل شروع امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

ایران منصفانہ معاہدے کیلئے تیار، امریکا قانون کا پابند رہے تو ڈیل ممکن ہے: ایرانی صدر

Web Desk

12 April 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ایک متوازن اور منصفانہ معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اگر امریکا بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہے تو کسی معاہدے کا حصول ناممکن نہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ اس وقت ہوا جب اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہوئے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، سیکیورٹی اور استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی ایوان صدر کے مطابق گفتگو میں گزشتہ دو ہفتوں کی جنگ بندی سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایرانی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک پائیدار امن اور سلامتی کی ضمانت دینے والے منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا عالمی قوانین کی پاسداری کرے تو معاہدہ ممکن ہے۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مغربی ممالک کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔

کریملن کے مطابق پوٹن نے تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے لیے ثالثی کے کردار پر آمادگی ظاہر کی۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔