LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب حکومت کی اپنا کھیت اپنا روزگار سکیم کا آغاز، زمین اور گرانٹ دینے کا اعلان بھارتی وزیر دفاع جرمنی میں آبدوز کے اندر جاتے ہوئے گر گئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی مگر ہوش میں ہیں: نیویارک ٹائمز پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا 3.45 ارب ڈالر کا تمام قرض ادا کر دیا، اسٹیٹ بینک خیبر: سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر آپریشن، 22 ہلاک معرکہ حق: فیلڈ مارشل کا بھارتی اشتعال انگیزی اور کشمیر پر دو ٹوک مؤقف ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان برطانیہ: 2008کے بعد پیدا ہونے والوں پر تاحیات سگریٹ پر پابندی اسپیس ایکس نے پاکستانی نوجوان کی اے آئی کمپنی 60 ارب ڈالر میں خریدنے کی آفر کردی کراچی میں نوجوان سے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ہزاروں ڈالرز لوٹ لیے گئے میرے پاس وقت ہے، ایران کے پاس نہیں، امریکی صدر ٹرمپ کا سخت مؤقف کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے مزید دو خالی تیل بردار جہاز گزر گئے امریکی صدر کو جنگ جاری رکھنے کیلئے کانگریس کی منظوری لینے میں ایک ہفتہ رہ گیا پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں مزید دو ارکان شامل، نوٹیفکیشن جاری

ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب

Web Desk

24 April 2026

ایرانی قیادت نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے دنیا کو ایک سخت اور واضح پیغام دیا ہے کہ ملک میں کسی قسم کی داخلی تقسیم موجود نہیں اور پوری قوم ایک انقلابی سوچ کے تحت متحد ہے۔ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت انتشار کا شکار ہے اور وہاں سخت گیر و اعتدال پسند گروپوں میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان:
ایرانی صدر نے ایکس (ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ملک میں کوئی نظریاتی تقسیم نہیں ہے، بلکہ پوری قوم “ایرانی اور انقلابی شناخت” کے تحت متحد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت اور عوام کے فولادی اتحاد اور رہبرِ انقلاب کی اطاعت کے سائے میں ایران ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “جو بھی ایران کے خلاف قدم اٹھائے گا، اسے پچھتانا پڑے گا، ہمارا راستہ ایک خدا، ایک قوم اور ایک رہنما پر مبنی ہے جس کی منزل صرف فتح ہے۔”

پارلیمانی اسپیکر اور وزیرِ خارجہ کا موقف:

باقر قالیباف: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے صدر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں انتہا پسند یا اعتدال پسند کی کوئی تفریق نہیں، تمام شہری ایک ہی انقلابی شناخت رکھتے ہیں جو کسی بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عباس عراقچی: وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں کہا کہ میدانِ جنگ اور سفارت کاری ایک ہی جنگ کے دو مربوط محاذ ہیں جن کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایرانی عوام پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں اور ریاستی اداروں میں نظم و ضبط برقرار ہے۔

ایرانی قیادت کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی مداخلت یا جارحیت کے خلاف اپنی دفاعی اور سفارتی طاقت کو یکجا کر چکے ہیں۔