فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کیلئے انفراسٹرکچر مکمل نہ ہوسکا
Web Desk
9 January 2026
فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے حوالے سے اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملک میں اس کے لیے درکار بنیادی انفراسٹرکچر تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
وزارتِ انفارمیشن کے اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں لاپروائی برتنے پر پیڈا ایکٹ کے تحت ذمہ دار ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ آئندہ ایک سے دو ماہ میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل کرنے کا پلان موجود ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں اس وقت صرف 30 لاکھ فائیو جی ڈیوائسز دستیاب ہیں، جبکہ فائیو جی سروس کے مؤثر آغاز کے لیے کروڑوں ڈیوائسز درکار ہوں گی۔ مزید یہ کہ پاکستان میں اب بھی 60 فیصد صارفین ٹو جی سروسز استعمال کر رہے ہیں اور بڑی آبادی جدید نیٹ ورک تک رسائی سے محروم ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فونز پر بھاری درآمدی ٹیکس، پی ٹی اے رجسٹریشن فیس اور دیگر اخراجات فائیو جی ٹیکنالوجی کی حوصلہ شکنی کا سبب بن رہے ہیں۔ ملک میں اب تک مقامی سطح پر موبائل ڈیوائسز کی تیاری بھی شروع نہیں ہو سکی، جو فائیو جی کے فروغ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 15 فیصد سے بھی کم ٹیلی کام ٹاورز فائبر آپٹک نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جبکہ فائیو جی سروس کے لیے فائبرائزیشن بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق جب تک انفراسٹرکچر، ڈیوائسز کی دستیابی اور پالیسی سطح پر رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جاتا، فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے باوجود عام صارفین اس جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم رہ سکتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026