LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

غیر قانونی فارماسٹس اور دوائیوں کی غلط فراہمی: عوام کی صحت کے لیے خطرہ

Web Desk

26 March 2026

کراچی/حیدرآباد: کراچی سمیت اندرونِ سندھ میں غیر رجسٹرڈ فارمیسیز اور بغیر لائسنس کے کام کرنے والے غیر قانونی فارماسسٹس نے عوامی صحت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، صوبے کے بیشتر میڈیکل اسٹورز پر ماہر فارماسسٹ کی ڈگری تو محض دکھاوے کے لیے آویزاں ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں وہاں کوئی تربیت یافتہ پیشہ ور موجود نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال صحت کے شعبے میں مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کر رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2024 کے اختتام تک ملک بھر کی تقریباً 90 فیصد فارمیسیز میں مستند فارماسسٹ موجود نہیں تھے۔ مجموعی طور پر 80 ہزار سے زائد نیٹ ورک شدہ فارمیسیز میں سے صرف 55 ہزار پر ہی تعلیم یافتہ اور لائسنس یافتہ پیشہ ور دستیاب ہیں۔ کم تجربہ کار افراد کی جانب سے مریضوں کو متبادل ادویات (Substitutes) تجویز کرنا اور اینٹی بایوٹکس کا بے دریغ استعمال، ادویات کے خلاف انسانی مدافعت (Antimicrobial Resistance) میں خطرناک اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

ماہرینِ صحت نے اس بحران کی بڑی وجہ ضلعی ہیلتھ آفیسرز (DHO) کے دفاتر میں مبینہ کرپشن اور ڈرگ لائسنس کے غیر شفاف اجراء کو قرار دیا ہے۔ غیر قانونی فارمیسیز کی بھرمار اور خود ساختہ ڈاکٹروں (Quacks) کے مشوروں نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ادویات کے لائسنسنگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور ڈرگ انسپکٹرز کے نظام میں شفافیت لائی جائے تاکہ اس جان لیوا کاروبار کا خاتمہ ہو سکے۔