LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال کوئی قانون موجود نہیں: پی ٹی اے کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب انڈونیشیا کی جیل میں ڈبل بیڈز کمرے، ٹی وی اور سوئمنگ پول حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کراچی: زیر تعمیر پل کی شٹرنگ اچانک گر گئی، ایک شخص جاں بحق افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائی، 22 ہلاک، ٹھکانے تباہ خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

چاند پر رہائش کیلئے بننے والے گھر کیسے ہوں گے؟

Web Desk

1 January 2026

مستقبل میں چاند اور مریخ پر آباد ہونے والے انسانوں کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے تیار کیے جانے والے گھروں کے جدید اور منفرد ڈیزائن منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ یہ ڈیزائن ناسا کے زیرِ اہتمام سینٹینیل چیلنج کے تحت تیار کیے گئے، جس کا مقصد گہری خلائی مہمات کے لیے پائیدار اور قابلِ عمل رہائشی ڈھانچوں کی تیاری تھا۔ یہ مقابلہ چار برس تک جاری رہا۔

مقابلے میں شریک ماہر ڈیزائنرز اور انجینئرز نے ایسے خلائی گھروں کے تصورات پیش کیے جو کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تعمیر کیے جا سکیں۔ یہ ڈیزائن اس بات کی جھلک پیش کرتے ہیں کہ مستقبل میں خلا میں طویل قیام کے دوران انسان کس طرز کے گھروں میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔

ناسا کے مطابق ان گھروں کی تعمیر میں مقامی وسائل کو ترجیح دی جائے گی، جیسے چاند یا مریخ کی سطح پر موجود مٹی (ریگولتھ)، تاکہ زمین سے سامان لے جانے کی لاگت، وزن اور پیچیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

ناسا کے سینئر عہدیدار اسٹیو جرزِک نے کہا کہ خلا میں انسانی موجودگی کے لیے محفوظ اور پائیدار رہائش بنیادی ضرورت ہے، تاہم خلائی جہازوں میں وزن اور جگہ محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس میں زمین سے لائے گئے محدود مواد کو وہاں دستیاب وسائل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب زمین پر ری سائیکلنگ ممکن ہے تو مریخ پر بھی اس تصور کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔

اگرچہ فی الحال اس بات کی کوئی حتمی ضمانت نہیں کہ یہ ڈیزائن عملی طور پر چاند یا مریخ پر تعمیر کیے جا سکیں گے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ تصورات مستقبل کی خلائی آبادکاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں اور آنے والے وقت میں انسانوں کی دوسرے سیاروں پر مستقل رہائش کی بنیاد بن سکتے ہیں۔