LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
میری ٹائم آرگنائزیشن نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے سنگین خطرہ قرار دیدیئے امریکی شہریوں کیلئے مشرق وسطیٰ سے متعلق سفری ہدایات جاری کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج رنگ لانے لگا، مودی سرکار طلبہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کویت کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت، علاقائی امن کیلئے براہِ راست خطرہ قرار دیدیئے بحری ناکہ بندی کا منصوبہ الٹا امریکا کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا: محمد باقر قالیباف امریکی انتظامیہ کے بعض عہدیدار زمینی حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں: عباس عراقچی امریکی صدر کی دھمکیاں مایوسی کی علامت ہیں: ایران کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل سندھ میں کل تک شدید بارشوں کا امکان، 23 اضلاع کیلئے موسمیاتی ایڈوائزری جاری اسرائیل کے غزہ میں فضائی حملے، مزید 2 فلسطینی شہید، کئی مکان تباہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کی برطانوی پارلیمنٹ میں بھی گونج غزہ میں غذائی بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ، اقوام متحدہ کی نئی وارننگ ایرانی وارننگ پر برطانیہ کا اہم بیان ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ناکام برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا وزیر اعظم کو خط، اسرائیل کی غزہ پالیسی پر مؤقف تبدیل کرنے کا مطالبہ ٹرمپ نے ایران پر اب تک کے سب سے بڑے حملے پر غور شروع کر دیا، ایگزیوس

حکومت کو آئینی ترمیم کیلئے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں کتنے ووٹ درکار ۔۔؟

Web Desk

10 November 2025

دو تہائی اکثریت سے منظوری کے لیے سینیٹ میں 64 جبکہ قومی اسمبلی میں 224 ووٹ درکار ہیں۔
سینیٹ
سینیٹ کے 96 رکنی ایوان میں حکمران اتحاد میں پیپلزپارٹی 26 ووٹوں کے ساتھ سرفہرست، مسلم لیگ ن 21 ووٹوں کے ساتھ دوسری بڑی حکومتی جماعت ہے، ایم کیو ایم اور اے این پی کے 3،3 ارکان موجود ہیں۔
نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ق اور 6 آزاد ارکان بھی حکومت کے ساتھ ہیں، حکمران اتحاد کو مجموعی طور پر 65 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے 22، جے یو آئی کے 7، ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کا ایک ایک سینیٹر اپوزیشن کا حصہ ہے، سینیٹ میں اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 31 بنتی ہے
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کا ایوان 336اراکین پر مشتمل ہے، 10 نشستیں خالی ہونے کے سبب ایوان میں اراکین کی تعداد 326 ہے، آئینی ترمیم کے لئے 224 اراکین کی حمایت درکار ہے۔
حکومتی اتحاد کو پیپلز پارٹی سمیت اس وقت 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے، مسلم لیگ ن 125اراکین کے ساتھ حکومتی اتحاد میں شامل سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، پیپلز پارٹی کے 74 اراکین ہیں، ایم کیو ایم کے 22 ق لیگ کے 5،آئی پی پی کے 4اراکین ہیں۔
مسلم لیگ ضیاء، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن کے علاوہ 4آزاد اراکین کی حمایت بھی حاصل ہے، قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی تعداد 89 ہے، اپوزیشن بنچوں پر 75 آزاد اراکین ہیں۔
جے یو آئی ف کے 10 اراکین ہیں، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، بی این پی مینگل اورپختونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن بھی اپوزیشن بنچوں پر موجود ہے۔