کراچی میں پانی بحران پر اعلیٰ سطحی اجلاس، کے فور سمیت اہم منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ
Web Desk
11 December 2025
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں پانی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزراء ناصر شاہ، جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کراچی کے شہریوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعدد اہم منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور شہر میں پائیدار پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کے فور پروجیکٹ کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ مکمل ہونے پر کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی پروجیکٹ (کے فور) کینجھر جھیل سے شہر تک پانی پہنچانے کا مرکزی ذریعہ ہوگا، جبکہ منصوبے پر 2020 سے واپڈا کام کر رہا ہے۔اجلاس میں کے فور توسیع، 260 ایم جی ڈی بلک واٹر سپلائی، کلری بگھار فیڈر کی لائننگ اور حب ڈیم منصوبوں سے متعلق تفصیلی پیش رفت پیش کی گئی۔ بریفنگ کے مطابق کے فور کے تین نئے ریزروائرز—آر ون، آر ٹو اور آر تھری—شہر کے مختلف حصوں میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنائیں گے۔ آر ون ریزروائر 65 ایم جی ڈی گنجائش کے ساتھ ضلع وسطی، شرقی اور غربی کو فوری سپورٹ فراہم کرے گا جبکہ آر ٹو 130 ایم جی ڈی کے ساتھ شہر کے بڑے حصے کو پانی مہیا کرے گا۔ آر تھری ریزروائر 65 ایم جی ڈی کی صلاحیت کے ساتھ غربی اور وسطی کوریڈورز کو مستحکم کرے گا۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی روڈ سمیت دیگر مقامات پر پائپ لائن بچھانے کے کام تیزی سے جاری ہیں اور کے فور منصوبہ مجموعی طور پر تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اجلاس میں کے فور کے لیے بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمیشن لائنوں کے معاہدے ہو چکے ہیں۔اجلاس میں کلری بگھار فیڈر کی فوری لائننگ پر زور دیا گیا تاکہ کے فور کے پانی کے کوٹہ کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے روزانہ 510 کیوسک پانی کی بچت متوقع ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے حب ڈیم کی دیکھ بھال کے لیے 1.075 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری بھی دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حب ڈیم کراچی اور بلوچستان کے شہر حب کے لیے پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے آر بی او ڈی ڈرینج سسٹم کی فوری بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور ماحول کے تحفظ کے لیے اس منصوبے کی بروقت مرمت ضروری ہے۔ انہوں نے واپڈا اور سندھ ایریگیشن کے درمیان مربوط حکمت عملی اپنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
متعلقہ عنوانات
جو شہر پال رہا ہے اسے زندہ رہنے دیں، کراچی پر بھی کرم نوازی کریں: خالد مقبول
8 November 2026
وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیل دی جائے، پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع
7 November 2026
سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے، صورتحال تسلی بخش نہیں: حافظ نعیم الرحمان
7 November 2026
ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ
7 November 2026
ورلڈ کلچر فیسٹیول کا دسواں روز بھی رنگارنگ سرگرمیوں اور ثقافتی پرفارمنس سے بھرپور
7 November 2026
این اے 77 گوجرانوالہ میں ضمنی انتخاب آج ہوگا،گیارہ امیدوار میدان میں
7 November 2026
صنعتوں کی سالانہ انسپکشن کا فیصلہ مسترد، ‘فباٹی’ کا الیکٹرک انسپکٹریٹ سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ
7 November 2026
پنجاب جیسی شفاف حکومت کہیں اور نہیں دیکھی: گورنر سندھ
7 November 2026