LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل حکومت کا پی ٹی ائی سے مذاکرات کا اعلان ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ مشرکہ مذاکرات کرے گے بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے مختلف حکام اور سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتیں پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرآب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ شام اور حزب اللہ کے درمیان بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی خفیہ ملاقات اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی حقوق کی بازیابی کا سفر شروع، ناانصافیوں کے خاتمے کا آغاز ہو رہا ہے: فاروق ستار وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر گہری تشویش ہے، تمام تر تحفظات کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر جمہوری حکومت کبھی فاشسٹ نہیں ہوتی، ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت صرف بانی چیئرمین میں ہے: علامہ راجہ ناصر عباس افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور

لندن ہیتھرو ایئرپورٹ نے بھی 100 ملی لیٹر مائع سکیورٹی پابندی ختم کر دی

Web Desk

24 January 2026

عالمی فضائی سفر کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دبئی کے بعد اب لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ نے بھی مسافروں کے لیے مائع اشیاء پر عائد 100 ملی لیٹر کی سکیورٹی پابندی ختم کر دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایک نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہیتھرو ایئرپورٹ پر جدید تھری ڈی اسکینرز نصب کر دیے گئے ہیں، جن کی مدد سے اب مسافروں کو ہاتھ کے سامان میں موجود مائع اشیاء علیحدہ نکالنے یا محدود مقدار میں رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نئے سکیورٹی نظام کے باعث سکیورٹی چیک کا عمل تیز اور مؤثر ہو جائے گا، جس سے مسافروں کو نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔ اس سے قبل دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی اسی نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں دیگر بڑے عالمی ایئرپورٹس کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔ پاکستانی مسافروں کے لیے یہ خبر خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کے اہم سفری مراکز سمجھے جاتے ہیں۔