LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1,929 زخمی: اعداد و شمار جاری پاک افغان کشیدگی :چین متحرک، نمائندہ کابل روانہ ایران اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ، ڈرون واقعے پر گفتگو ایران کی مسلح افواج نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا امریکا نے سعودی عرب میں سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا حکم دے دیا خیبرپختونخوا حکومت نے توانائی بچت کی وفاقی تجاویز پر اتفاق کر لیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کردیا گیا قطر ایئر ویز 9 مارچ سے محدود پروازوں کا آغاز کرے گی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود کراچی پورٹ پر تیسرا ٹرانس شپمنٹ جہاز لنگر انداز امریکی صدر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی : پاکستانی شہری مجرم قرار صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی کم از کم رقم 300 روپے مقرر، اسلامی نظریاتی کونسل نے نصاب جاری کر دیا اسلام آباد میں عورت مارچ کے دوران فرزانہ باری سمیت 14 افراد گرفتار پٹرول مہنگا ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو گئی، حکومت چار سال میں ہر سطح پر ناکام رہی: محمد زبیر پٹرول مہنگا کر کے عوام پر بوجھ ڈالا گیا، حکومت معیشت سنبھالنے میں ناکام رہی: تیمور سلیم جھگڑا

برطانیہ کے ناول نگاروں میں سے آدھے مصنوعی ذہانت سے پریشان

Web Desk

21 November 2025

کیمرج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 258 ناول نگاروں، 32 ادبی ایجنٹوں اور 42 فکشن پبلشنگ کے پیشہ ور افراد سے گمنام سروے کیا گیا، جس نے صنعت کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کی ایک واضح تصویر پیش کی ہے۔

ایک بڑی تعداد یعنی 59 فیصد ناول نگاروں نے بتایا کہ ان کے کام کو لارج لینگوئج ماڈلز (ایل ایل ایمز) کو تربیت دینے کے لیے ان کی اجازت یا ادائیگی کے بغیر استعمال کیا گیا۔اس غیر مجاز استعمال نے ان کے روزگار پر بھی اثر ڈالا اور ایک تہائی سے زیادہ (39 فیصد) نے کہا کہ جنریٹیو اے آئی کی وجہ سے ان کی آمدنی متاثر ہوئی، خصوصاً اس وجہ سے کہ انہیں وہ اضافی کام نہیں مل رہا جو ناول لکھنے کے ساتھ ان کی آمدنی کو سہارا دیتا تھا۔مستقبل کے حوالے سے بھی منظرنامہ مایوس کن دکھائی دیتا ہے کیونکہ 85 فیصد افراد کو آئندہ آمدنی میں کمی کا خدشہ ہے جبکہ 51 فیصد واضح طور پر خوف زدہ ہیں کہ اے آئی ان کے کام کی مکمل طور پر جگہ لے سکتی ہے۔رپورٹ کی مصنفہ ڈاکٹر کلیمنٹائن کولٹ نے کیمبرج کے مائنڈرو سینٹر فار ٹیکنالوجی اینڈ ڈیموکریسی سے تعلق رکھتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ناول نگاروں میں وسیع پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ایسی جنریٹیو اے آئی، جسے بے شمار فکشن پر تربیت دی گئی ہے، تحریری کام کی قدر کو گھٹا دے گی اور انسانی ناول نگاروں کے مقابل آجائے گی۔ڈاکٹر کولٹ نے مزید کہا کہ کئی ناول نگار اس بات کو لے کر بھی غیر یقینی ہیں کہ آنے والے برسوں میں پیچیدہ اور طویل تحریروں کا کوئی قاری باقی بھی رہے گا یا نہیں، ناول تخلیقی صنعتوں کا بنیادی حصہ ہیں اور بے شمار فلموں، ٹی وی شو اور ویڈیو گیمز کی بنیاد بھی۔رپورٹ کے مطابق صنفی ادب (genre fiction) لکھنے والے مصنفین خاص طور پر غیر محفوظ سمجھے جا رہے ہیں اور 66 فیصد شرکا نے رومانس لکھنے والوں کو بہت زیادہ خطرے میں قرار دیا، اس کے بعد تھرلر 61 فیصد اور کرائم 60 فیصد لکھنے والے مصنفین ہیں۔کچھ شرکا نے ایک خوف ناک مستقبل کا تصور بھی پیش کیا، جہاں انسانوں کے لکھے گئے ناول سستے اے آئی سے تیار شدہ مواد کے سیلاب میں ایک مہنگی لگژری شے بن جائیں گے، ان خدشات کے باوجود برطانوی فکشن کی مجموعی رائے مکمل طور پر اے آئی مخالف نہیں۔سروے میں شریک 80 فیصد افراد اس کے معاشرتی فوائد کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ ایک تہائی (33 فیصد) ناول نگار فی الحال اے آئی کو ’غیر تخلیقی‘ کاموں جیسے معلومات کی تلاش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔