LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، شہباز شریف کا خلیج میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کویت نے آئل ٹینکر پر حملے کے خلاف ایرانی سفیر کو طلب کرلیا نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ کی تارکینِ وطن کے لیے جعل سازوں کے حوالے سے الرٹ جاری بحری ناکہ بندی کے دوران 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، ایک ناکارہ بنا دیا: سینٹ کام قطر کا حملوں سے نقصانات کے ازالے کیلئے ایران سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ

برطانیہ کے ناول نگاروں میں سے آدھے مصنوعی ذہانت سے پریشان

Web Desk

21 November 2025

کیمرج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 258 ناول نگاروں، 32 ادبی ایجنٹوں اور 42 فکشن پبلشنگ کے پیشہ ور افراد سے گمنام سروے کیا گیا، جس نے صنعت کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کی ایک واضح تصویر پیش کی ہے۔

ایک بڑی تعداد یعنی 59 فیصد ناول نگاروں نے بتایا کہ ان کے کام کو لارج لینگوئج ماڈلز (ایل ایل ایمز) کو تربیت دینے کے لیے ان کی اجازت یا ادائیگی کے بغیر استعمال کیا گیا۔اس غیر مجاز استعمال نے ان کے روزگار پر بھی اثر ڈالا اور ایک تہائی سے زیادہ (39 فیصد) نے کہا کہ جنریٹیو اے آئی کی وجہ سے ان کی آمدنی متاثر ہوئی، خصوصاً اس وجہ سے کہ انہیں وہ اضافی کام نہیں مل رہا جو ناول لکھنے کے ساتھ ان کی آمدنی کو سہارا دیتا تھا۔مستقبل کے حوالے سے بھی منظرنامہ مایوس کن دکھائی دیتا ہے کیونکہ 85 فیصد افراد کو آئندہ آمدنی میں کمی کا خدشہ ہے جبکہ 51 فیصد واضح طور پر خوف زدہ ہیں کہ اے آئی ان کے کام کی مکمل طور پر جگہ لے سکتی ہے۔رپورٹ کی مصنفہ ڈاکٹر کلیمنٹائن کولٹ نے کیمبرج کے مائنڈرو سینٹر فار ٹیکنالوجی اینڈ ڈیموکریسی سے تعلق رکھتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ناول نگاروں میں وسیع پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ایسی جنریٹیو اے آئی، جسے بے شمار فکشن پر تربیت دی گئی ہے، تحریری کام کی قدر کو گھٹا دے گی اور انسانی ناول نگاروں کے مقابل آجائے گی۔ڈاکٹر کولٹ نے مزید کہا کہ کئی ناول نگار اس بات کو لے کر بھی غیر یقینی ہیں کہ آنے والے برسوں میں پیچیدہ اور طویل تحریروں کا کوئی قاری باقی بھی رہے گا یا نہیں، ناول تخلیقی صنعتوں کا بنیادی حصہ ہیں اور بے شمار فلموں، ٹی وی شو اور ویڈیو گیمز کی بنیاد بھی۔رپورٹ کے مطابق صنفی ادب (genre fiction) لکھنے والے مصنفین خاص طور پر غیر محفوظ سمجھے جا رہے ہیں اور 66 فیصد شرکا نے رومانس لکھنے والوں کو بہت زیادہ خطرے میں قرار دیا، اس کے بعد تھرلر 61 فیصد اور کرائم 60 فیصد لکھنے والے مصنفین ہیں۔کچھ شرکا نے ایک خوف ناک مستقبل کا تصور بھی پیش کیا، جہاں انسانوں کے لکھے گئے ناول سستے اے آئی سے تیار شدہ مواد کے سیلاب میں ایک مہنگی لگژری شے بن جائیں گے، ان خدشات کے باوجود برطانوی فکشن کی مجموعی رائے مکمل طور پر اے آئی مخالف نہیں۔سروے میں شریک 80 فیصد افراد اس کے معاشرتی فوائد کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ ایک تہائی (33 فیصد) ناول نگار فی الحال اے آئی کو ’غیر تخلیقی‘ کاموں جیسے معلومات کی تلاش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔