LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

پولیو کیخلاف بڑی کامیابی، 2025 میں کیسز میں نمایاں کمی

Web Desk

31 December 2025

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں سال 2025 کے دوران نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (نیشنل ای او سی) کے مطابق ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 74 سے کم ہو کر 30 رہ گئی ہے، جو انسدادِ پولیو مہمات کی مؤثر حکمتِ عملی کا واضح ثبوت ہے۔

نیشنل ای او سی کا کہنا ہے کہ ستمبر 2025 کے بعد ملک بھر میں پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ بلوچستان اور پنجاب میں تقریباً ایک سال سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، جو ایک نہایت حوصلہ افزا پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق رواں سال انسدادِ پولیو کی چھ اعلیٰ معیار کی قومی مہمات کامیابی سے منعقد کی گئیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ حالیہ قومی پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں 98 فیصد سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

نیشنل ای او سی کے مطابق گزشتہ مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو فیلڈ ٹیموں کی بہتر کارکردگی اور نگرانی کا نتیجہ ہے۔

حکام نے والدین اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک انسدادِ پولیو مہمات کا سلسلہ پوری قوت سے جاری رکھا جائے گا۔