LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

گوگل نے صارفین کو شرمندگی سے بچانے کیلئے اہم فیچر متعارف کرادیا

Web Desk

30 December 2025

اگر آپ نے کم عمری میں کوئی انتہائی بچگانہ یا شرمندگی والا ای میل ایڈریس بنا لیا تھا تو گوگل نے آپ کی مشکل آسان کر دی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے جی میل صارفین کے لیے ایک طویل عرصے سے مطلوب فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب صارفین اپنا موجودہ ای میل ایڈریس تبدیل کر سکیں گے۔

گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج کے مطابق اس نئے فیچر کی بدولت جی میل اکاؤنٹ ہولڈر اپنا ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے باوجود اپنا تمام ڈیٹا، ای میلز اور اکاؤنٹ معلومات محفوظ رکھ سکیں گے، جسے صارفین کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اپ ڈیٹ سے متعلق مکمل ہدایات فی الحال صرف گوگل کے سپورٹ پیج کے ہندی ورژن پر موجود ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز ابتدائی طور پر بھارت میں کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ فیچر عالمی سطح پر متعارف کرایا گیا تو کروڑوں جی میل صارفین برسوں پرانے ناپسندیدہ ای میل ایڈریس سے نجات حاصل کر سکیں گے