LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا بلیک میلنگ کیلئے استعمال ناقابلِ قبول : سعودیہ وزیرِ خارجہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش ناقابل قبول، حرمین شریفین کی سلامتی سرخ لکیر ہے: وزیراعظم تربیتی مشق کے دوران بحری حادثہ: قازق بحریہ کے فرسٹ ڈپٹی کمانڈر سمیت 5 افسر گرفتار بلاول بھٹو سے چوہدری یاسین اور راجہ پرویز اشرف کی الگ الگ ملاقاتیں ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی

’اپنی بات مہذب انداز میں بھی کہی جا سکتی ہے‘، گوہر رشید نے عورت مارچ کے طریقۂ کار پر اعتراض اٹھا دیا

Web Desk

29 July 2026

معروف پاکستانی اداکار گوہر رشید نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق اور سنگین مسائل پر بات چیت کے دوران اظہار کا طریقہ کار ہمیشہ مہذب اور شائستہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے فلموں میں آئٹم نمبرز اور عورت مارچ کے کچھ نامناسب پوسٹرز پر ایک ساتھ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر خواتین کو ‘سیکس ابجیکٹ’ (جنسی شے) کے طور پر پیش کرنا غلط ہے تو حقوق کی جدوجہد میں بھی فحش یا غیر مناسب تاثر دینے والے انداز سے گریز کرنا چاہیے۔ اداکار کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں کچھ صارفین نے ان کی تائید کرتے ہوئے پوسٹرز کے انداز پر سوال اٹھائے، جبکہ دیگر نے موقف اختیار کیا کہ معاشرے کو عورت مارچ کے نعروں کے ساتھ ساتھ خواتین پر تشدد اور بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے تلخ و سنگین مسائل پر بھی اتنی ہی شدت سے آواز اٹھانی چاہیے۔