LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف

کیا مٹاپے کی ادویات نشے کی لت سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں؟

Web Desk

7 March 2026

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جی ایل پی-1 ادویات، جیسے اوزیمپک اور مونجارو، نشہ آور اشیاء کے استعمال سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے تجزیے میں ذیابیطس میں مبتلا چھ لاکھ سے زائد امریکی فوجی سابقہ مریضوں کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں پایا گیا کہ وہ افراد جو جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرتے ہیں، ان کے الکوحل، نیکوٹین، کوکین، اوپیائڈز اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کے امکانات نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔

مزید برآں، نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے افراد میں جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال سے اسپتال میں داخلے، اوور ڈوز اور موت کے خطرات بھی کم دیکھے گئے۔ یہ تحقیق مٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کے ساتھ ساتھ نشہ آور رویوں میں کمی کے نئے امکانات کی نشاندہی کرتی ہے۔