LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

کیا مٹاپے کی ادویات نشے کی لت سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں؟

Web Desk

7 March 2026

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جی ایل پی-1 ادویات، جیسے اوزیمپک اور مونجارو، نشہ آور اشیاء کے استعمال سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے تجزیے میں ذیابیطس میں مبتلا چھ لاکھ سے زائد امریکی فوجی سابقہ مریضوں کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں پایا گیا کہ وہ افراد جو جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرتے ہیں، ان کے الکوحل، نیکوٹین، کوکین، اوپیائڈز اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کے امکانات نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔

مزید برآں، نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے افراد میں جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال سے اسپتال میں داخلے، اوور ڈوز اور موت کے خطرات بھی کم دیکھے گئے۔ یہ تحقیق مٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کے ساتھ ساتھ نشہ آور رویوں میں کمی کے نئے امکانات کی نشاندہی کرتی ہے۔