فاریور کیمیکلز کا شہد کی مکھیوں پر تشویشناک اثر، نئی تحقیق میں انکشاف
Web Desk
10 March 2026
آسٹریلوی سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ زہریلے ’’فارایور کیمیکلز‘‘ شہد کی مکھیوں کے چھتوں میں جمع ہو کر شہد کو متاثر کر سکتے ہیں اور بالآخر انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ کیمیکلز، جنہیں PFOS یا پی ایف اوز کہا جاتا ہے، عام طور پر داغ سے محفوظ کپڑوں، نان اسٹک برتنوں، آگ بجھانے والے فوم اور برقی آلات میں بڑی مقدار میں استعمال ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کیمیکلز آسانی سے تحلیل نہیں ہوتے اور طویل عرصے تک ماحول میں موجود رہتے ہیں۔
ماضی کی مختلف تحقیقات میں بھی پی ایف اوز کو صحت کے کئی خطرات سے منسلک کیا گیا ہے، جن میں ہائی کولیسٹرول اور جگر کے انزائمز میں تبدیلیاں شامل ہیں۔
تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے آسٹریلیا میں European Honey Bee کی کالونیوں پر ان کیمیکلز کے اثرات کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس مادے کے طویل عرصے تک اثر میں رہنے سے شہد کی مکھیوں کے خلیات کے افعال کو کنٹرول کرنے والے اہم پروٹینز کے اظہار میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
تحقیق کی مصنفہ Caroline Souter کے مطابق نئی نسل کی کم عمر شہد کی مکھیوں کے جسمانی بافتوں میں پی ایف او ایس کی موجودگی پائی گئی۔ مزید یہ کہ ان مکھیوں کا جسمانی وزن ان مکھیوں کے مقابلے میں کم تھا جو اس کیمیکل کے اثر سے محفوظ تھیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے Environmental Science & Technology میں شائع کی گئی ہے، جس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ماحول میں موجود یہ کیمیکلز نہ صرف شہد کی مکھیوں بلکہ بالآخر انسانی صحت پر بھی منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026