روزمرہ کی عام غذائیں جو کمرے کے درجہ حرارت میں زہر بن سکتی ہیں
Web Desk
26 March 2026
اسلام آباد: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کچن میں موجود کئی ایسی غذائیں ہیں جنہیں ہم عام طور پر کاؤنٹر یا الماری میں رکھ دیتے ہیں، حالانکہ وہ تیزی سے جراثیم کی آماجگاہ بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق 5°C سے 57°C کے درمیان کا درجہ حرارت “خطرناک زون” (Danger Zone) کہلاتا ہے، جہاں بیکٹیریا کی تعداد ہر 20 منٹ میں دگنی ہو سکتی ہے۔
ان اشیاء میں میپل سیرپ سرِفہرست ہے؛ اسے کھولنے کے بعد اگر کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے تو اس میں پھپھوندی (Mold) پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح کٹے ہوئے خربوزے اپنی زیادہ نمی اور مٹھاس کی وجہ سے بیکٹیریا (جیسے سالمونیلا) کے لیے بہترین جگہ فراہم کرتے ہیں، لہٰذا انہیں کاٹنے کے فوراً بعد فریج میں رکھنا چاہیے۔
مزید برآں، پراسیسڈ میٹس (سلائس گوشت) اور اُبلے ہوئے انڈے بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ انڈے ابالنے کے بعد ان کی قدرتی حفاظتی تہہ ختم ہو جاتی ہے، جس سے جراثیم کے اندر داخل ہونے کا راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ پوائزننگ سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ان حساس اشیاء کو 5°C سے کم درجہ حرارت پر محفوظ رکھا جائے۔
متعلقہ عنوانات
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026