LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور سعودی عرب میں نومبر میں ہونے والی چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ملتوی پمز ہسپتال میں بچوں کی اموات، آتشزدگی واقعہ: غفلت کے الزام میں 7 افسران چارج شیٹ گیس کے پیداواری ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس، صدر پوتن سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت معلومات کے تبادلے کےلیے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز

روزمرہ کی عام غذائیں جو کمرے کے درجہ حرارت میں زہر بن سکتی ہیں

Web Desk

26 March 2026

اسلام آباد: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کچن میں موجود کئی ایسی غذائیں ہیں جنہیں ہم عام طور پر کاؤنٹر یا الماری میں رکھ دیتے ہیں، حالانکہ وہ تیزی سے جراثیم کی آماجگاہ بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق 5°C سے 57°C کے درمیان کا درجہ حرارت “خطرناک زون” (Danger Zone) کہلاتا ہے، جہاں بیکٹیریا کی تعداد ہر 20 منٹ میں دگنی ہو سکتی ہے۔

ان اشیاء میں میپل سیرپ سرِفہرست ہے؛ اسے کھولنے کے بعد اگر کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے تو اس میں پھپھوندی (Mold) پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح کٹے ہوئے خربوزے اپنی زیادہ نمی اور مٹھاس کی وجہ سے بیکٹیریا (جیسے سالمونیلا) کے لیے بہترین جگہ فراہم کرتے ہیں، لہٰذا انہیں کاٹنے کے فوراً بعد فریج میں رکھنا چاہیے۔

مزید برآں، پراسیسڈ میٹس (سلائس گوشت) اور اُبلے ہوئے انڈے بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ انڈے ابالنے کے بعد ان کی قدرتی حفاظتی تہہ ختم ہو جاتی ہے، جس سے جراثیم کے اندر داخل ہونے کا راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ پوائزننگ سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ان حساس اشیاء کو 5°C سے کم درجہ حرارت پر محفوظ رکھا جائے۔